ہم صاحب کے سامنے بیٹھے ایک دوسرے کے چہروں کو ٹٹولتے رہے کہ اب تک جنّوں بھوتوں کا بوجھ سر پر اُٹھائے پھِر رہے تھے یہ تو شرارت تھی۔
مصنف: ع۔غ۔ جانباز
قسط: 67
تفریح کا لمحہ
قصّہ مختصر یہ کہ اُس دن جب آپ تفریح کے لیے نہر کے کنارے گئے ہوئے تھے۔ نہر کے دائیں طرف تعینّات بیلدار کو شرارت سوجھی اور وہ تیرتا ہوا آپ کی طرف آیا تو آپ بھاگ نکلے اور وہ واپس جا کر پھر اپنی ڈیوٹی دینے لگا۔ یہی اُس کی شرارت کا مقصد تھا جو آپ نے بھاگ کر پورا کردیا۔ ہاں اگر آپ نہ بھاگتے تو بھی اُس نے اِسی طرح کرنا تھا۔ آپ کی طرف آکر جب دیکھتا کہ آپ خوف زدہ نہیں ہوئے تو فوراً واپس چلا جاتا۔
اوور سیئر صاحب کا کردار
ہم سبھی اوور سیئر صاحب کے سامنے بیٹھے کچھ اُن کی باتوں کو کچھ ایک دوسرے کے چہروں کو ٹٹولتے رہے کہ ہم تو اب تک جنّوں بُھوتوں کا بوجھ سر پر اُٹھائے پھِر رہے تھے یہ تو ایک سادہ سی شرارت تھی۔ ہم نے اوور سیئر صاحب کا شکریہ ادا کیا کہ اُنہوں نے ایک غلط فہمی دُور کردی۔ ورنہ ہم پڑھے لکھے گریجوایٹ بھی لوگوں کو حلفاً جنّوں بھُوتوں کی کہانی سناتے سناتے نا جانے اور کیا کیا سُنانے لگتے۔
نیا سیٹ اپ اور مواقع
اس دوران 1955ء میں ایک نیا گراؤنڈ واٹر ڈویلپمنٹ سیٹ اپ آرگنائزیشن (G.W.D.O) امریکن ایڈ کی مدد سے بن گیا۔ جونیئر اور سینئر افسران کی نئی اسامیاں نکل آئیں اور بہت سی فور ویل ڈرائیو جیپس اور دوسرا سامان آفیسرز ٹینٹس، چھولداریاں، ٹیسٹنگ کٹس وغیرہ آگئیں۔ نئی اسامیوں پر تقرری پنجاب پبلک سروس کمیشن نے کرنی تھیں۔ ہمارے انچارج افسران نے ہمیں تاکید کی کہ ہم سب لوگ جو فیلڈ میں کام کرتے ہیں، اپلائی کریں۔
چہ میگوئیاں اور حوصلہ افزائی
اس پر کئی طرح کی چہ میگوئیاں بھی ہوئیں کہ وہاں پبلک سروس کمیشن میں بڑے بڑے افسران انٹرویو کے لیے بیٹھتے ہیں اور رواں انگلش میں بات ہوتی ہے۔ ہم نئے ریکروٹس ابھی اس سطح تک نہیں پہنچ سکے تھے، نتیجتاً ہم سب کا وہاں کامیاب ہونا ناممکن ہے۔ ان دلائل کو آگے بڑھانے میں سب سے بڑا حصّہ "بھامنیر" کا تھا۔ انہوں نے تو ببانگ دہل اعلان کردیا کہ وہ درخواست نہیں گزاریں گے اور اُن 5 روپیوں کا کئی دن دودھ پئیں گے اور بس۔ چنانچہ اُن کے علاوہ سب لوگوں نے درخواستیں گذار دیں۔
انٹرویو کا تجربہ
کچھ دنوں بعد انٹرویو کے لیے کالز آگئیں۔ باری باری سبھی پبلک سروس کمیشن میں انٹرویو دینے گئے۔ مجھے یاد ہے جب میں انٹرویو کے لیے گیا تو ایک آفیسر نے مجھ سے پوچھا کہ آپ فیلڈ میں جو مٹی کا سیمپل لیتے ہیں وہ کتنے وزن کا ہوتا ہے۔ اب مجھے وزن کا پتہ نہ تھا۔ ایک سائز کی کپڑے کی تھیلیاں تھیں جن کو بھر کر اتنی جگہ اوپر چھوڑی جاتی تھی کہ تھیلی کا منہ باندھا جا سکے۔
پرتشکیل اور ترقی
چنانچہ میں نے اُس کا جواب یہ تو نہ دیا کہ مجھے پتہ نہیں۔ میں نے دونوں ہاتھ آپس میں ملائے اور ایک باؤل سا بنا کر بتایا کہ اتنا جتنا اس میں سیمپل آسکے۔ بات دراصل یہ تھی کہ نئی آرگنائزیشن میں لوگوں کو بھرتی کرنا تھا۔ اب جو لوگ 8 ماہ کام کر چکے تھے، اُن کو "Preliminary Training" تو نہ دینی پڑے گی، وہ فوراً کام شروع کردیں گے۔ لہٰذا جتنے لوگ تھے سب کو پروموٹ کر دیا گیا لیکن پھر بھی تعداد پوری نہ ہوئی۔
بھامنیر کا خاموش ہو جانا
ہم دسویں سکیل میں مبلغ 179/- روپے ماہوار تنخواہ پانے والے ریسرچ اسسٹنٹ تھرو پبلک سروس کمیشن سولہویں سکیل میں جونیئر ریسرچ آفیسر بن گئے اور ہماری تنخواہ بڑھ کر 298= 48+250 روپے ماہوار ہوگئی۔ یاد رہے جب پرموشن لیٹر لے کر چپڑاسی مجھے دینے کے لیے آیا تو میں اس وقت دفتر کے پیچھے اپنے ٹینٹ میں "زردہ" پکا رہا تھا۔ پھر باہر سے بھی لوگ لیے گئے جن میں کئی "M.Sc Agri." تھے۔
اب ان افسران کے لیے ریسرچ اسسٹنٹ بھی بھرتی کیے اور پھر ان ریسرچ اسسٹنٹ کو افسران کے ساتھ لگا دیا گیا۔ اب ان میں "بھامنیر" بھی تھے جنہوں نے کمیشن میں درخواست نہیں دی تھی۔ وہ تو ریسرچ اسسٹنٹ ہی رہے۔ لہٰذا اُن کو دوسرے 3 لڑکوں کے ساتھ میری ماتحتی میں دے دیا گیا۔ اب "بھامنیر" بس بالکل خاموش ہوگیا۔ ایک سکتے کے عالم میں کوئی تین چار ماہ بالکل خاموش یعنی ایک کربِ عظیم میں یہ عرصہ گذار کر نوکری چھوڑ کر چلتا بنا۔ (جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








