اپنا حساب سکول کے بچے کی طرح تھا، چھٹی کی گھنٹی بجی اور یہ جا وہ جا۔ ابا جی کہا کرتے تھے جو وقت پر کام ختم نہیں کرتا اسے یا تو کام آتا نہیں یا وہ نالائق ہے۔
مصنف کا تعارف
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 448
یہ بھی پڑھیں: طبی سہولیات تک رسائی کینسر کے خلاف جنگ جیتنے میں ناگزیر ہے: سردار ایاز صادق
اجلاس کا آغاز
بات بگڑ گئی؛ شروع میں سیکرٹری بلدیات کے دفتر ان کمپنیوں کے باقاعدہ اجلاس ہوتے تھے۔ افضل کھوکھر صدارت کرتے جبکہ جواد رفیق سیکرٹری بلدیات بھی شرکت کرتے۔
یہ بھی پڑھیں: بجلی کی قیمتوں میں کمی کیلئے اقدامات جاری ہیں: اویس لغاری
آؤٹ سورسنگ کا فیصلہ
ایسے ہی ایک اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ پینے کے پانی، شامیانے، کھرلیاں، پارکنگ وغیرہ جیسی سہولیات آؤٹ سورس کی جائیں۔ بیچارے "ازفر ضیاء" ڈایریکٹر ملتان نے اگلی میٹنگ سے پہلے ان سہولیات کو آؤٹ سورس کر کے میٹنگ میں اس فخر کے ساتھ شریک ہوا کہ اس کو پذیرائی ملے گی مگر اس کی سخت سرزنش ہوئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں بارشوں اور سیلاب سے 2 ماہ میں 785 افراد جاں بحق، خیبرپختونخوا سرفہرست
ازفر ضیاء کی ستم ظریفی
وجہ یہ تھی کہ افضل کھوکھر نے سخت الفاظ میں اُس پر چڑھائی کر دی کہ پرانے ٹھیکے داروں کو ہی ملی بھگت سے یہ سہولتیں آؤٹ سورس کی گئی تھیں۔ کھوکھر نے یہ بھی کہا؛ "آؤٹ سورس کرنے کا کہا کس نے تھا؟" بیچارہ ازفر کہتا ہی رہ گیا کہ پچھلی میٹنگ میں یہ فیصلہ ہوا تھا مگر اُس کی کسی نے نہ سنی۔ میں نے بولنا چاہا مگر مجھے گل صاحب نے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ میں بم دھماکہ، ایک شخص ہلاک
معطلی کی حقیقت
نتیجہ یہ ہوا کہ سیکرٹری بلدیات نے ازفر ضیاء کو معطل کر دیا حالانکہ سیکرٹری بلدیات جانتے تھے کہ ایسا کرنے کا فیصلہ کس نے کیا تھا۔ شاید یہ دور ہاں میں ہاں ہی ملانے کا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بسنت پر موسم کیسا رہے گا؟ محکمہ موسمیات نے بتا دیا
فرد کی محنت
دوران سروس میں کبھی بھی دفتر کا کام گھر لے کر نہیں گیا اور نہ ہی دفتری اوقات کے بعد دفتر بیٹھا۔ ماسوائے ان خاص حالات کے جب مصروفیات تقاضہ کرتی مثلاً الیکشن، سیلاب، وغیرہ۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائی کورٹ کی خاتون جج جسٹس ثمن رفعت کیخلاف توہین عدالت درخواست خارج
دفتر کے مخصوص واقعات
جب میں ہیڈ کواٹرز پوسٹڈ تھا تو کئی ڈائریکٹر جنرل گرمی کے دنوں میں شام گئے تک دفتر بیٹھے رہتے اور سرکاری اے سی اور سرکاری entertainment سے لطف اٹھاتے۔ کمشنر گوجرانوالہ بھی دیر تک دفتر رہتے اور ان کے ساتھ ہیڈ کوارٹرز کے باقی افسران بھی۔ لیکن اپنا حساب سکول کے بچے کی طرح تھا کہ بس چھٹی کی گھنٹی بجی اور یہ جا وہ جا۔
یہ بھی پڑھیں: کانگو میں کشتی میں آگ لگنے سے ہلاک افراد کی تعداد 148 ہو گئی
افسران کی مخصوص گفتگو
ایک بار کمشنر گوجرانوالہ شمائیل خواجہ کہنے لگے؛ "یار! میں دفتر بیٹھا ہوتا ہوں اور تم چلے جاتے ہو۔" میں نے جواب دیا؛ "سر! بڑے افسر جب تک چاہیں دفتر لگائے رکھیں۔ چھوٹے افسر کام ختم اور پھر فیملی ٹائم شروع۔" ویسے سر! میرے ابا جی کہا کرتے تھے جو شخص وقت پر کام ختم نہیں کرتا اس کی دو ہی وجوہات ہیں یا تو اسے کام آتا نہیں یا وہ نالائق ہے۔ وہ مسکرا دیئے۔
یہ بھی پڑھیں: جب تک عمران خان واضح پیغام نہیں دیں گے ، مذاکرات شروع نہیں ہو سکتے، خواجہ آصف
سیکھنے کا عمل
نوکری نے مجھے تیسرے قسم کے افسر کا بھی پتہ بتا دیا تھا جو دفتری اوقات کے بعد "لین دین" کرتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: جیو کی نشریات ہیک، پاک فوج کے خلاف پیغام نشر، انتظامیہ کا کوئی تعلق نہیں، ایم ڈی کی وضاحت
پی اے کی بات
ایک تبادلے کی فائل لے کر کمشنر کے پاس گیا۔ میں اپنے پی اے شہزاد شاہ سے کہہ رہا تھا کہ اس میں ٹرانسفر ہونے والے افسر کی ٹرانسفر ہسٹری بھی لف کر دے۔ رمضان کا مہینہ تھا، کچھ روزہ لگا ہوا تھا اور کچھ تھکا ہوا بھی تھا کہنے لگا؛ "سر! ایسے ہی لے جائیں تھک گیا ہوں۔" میں فائل لے گیا۔ یہ میری حماقت تھی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان تحریک انصاف کا کل اڈیالہ جیل کے باہر عوامی اسمبلی لگانے کا فیصلہ
شرمندگی کا لمحہ
فائل کمشنر کو دکھائی۔ بولے افسر کی ٹرانسفر ہسٹری نہیں لگائی۔ میں نے پی اے والی بات ہی بات دی؛ کہنے لگے؛ "تم پی اے کے کہنے پر چلتے ہو۔" میری اس حماقت نے مجھے شرمندہ کر دیا تھا۔
(جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








