عراق اقوام متحدہ میں جمع کرائی گئی اپنی سرحدی حدود کے نقشے واپس لے، خلیج تعاون کونسل نے بڑا مطالبہ کر دیا
خلیج تعاون کونسل کا عراق سے مطالبہ
ریاض (اے پی پی) عراق اقوام متحدہ میں جمع کرائی گئی اپنی سرحدی حدود کے نقشے واپس لے، خلیج تعاون کونسل نے بڑا مطالبہ کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈی چوک احتجاج میں گرفتار 20 پی ٹی آئی کارکنان جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل
اقوامِ متحدہ میں عراقی دعوے
تفصیلات کے مطابق خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل جاسم البدیوی نے عراق سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ میں جمع کرائی گئی ان حدود اور نقشوں کی فہرست واپس لے جس میں عراقی سمندری حدود کے حوالے سے دعوے کیے گئے ہیں، کیونکہ ان حدود اور نقشوں میں فشت القید اور فشت العیج سمیت کویت کی سمندری حدود اور دیگر علاقوں پر اس کی خود مختاری کو متاثر کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہمارے پاس بہترین سپنرز ہیں، انگلینڈ کو ٹف ٹائم دیں گے: صاحبزادہ فرحان نے حکمت عملی بتا دی
بین الاقوامی قوانین کی اہمیت
’’العربیہ اردو‘‘ کے مطابق سیکرٹری جنرل جی سی سی نے بین الاقوامی قانون کے قواعد و ضوابط اور 1982 کے اقوامِ متحدہ کے سمندری قوانین کے معاہدے پر عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان قوانین کے تحت 2 ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمتوں، معاہدوں اور دوطرفہ یادداشتوں پر عمل کیا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: شام کو مغرب کے بعد آجایا کریں، آپ بھی سیراب ہوں، ”آپ نے یہ مقناطیسیت کہاں سے لی؟“ میں حیران پریشان لیکن اب کچھ جان میں جان آئی
کویت کی خود مختاری کا تحفظ
اسی تناظر میں جاسم البدیوی نے خلیج تعاون کونسل کے سربراہی اجلاس کے 46 ویں سیشن کے اعلامیے کا حوالہ دیتے ہوئے کویت کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کے حوالے سے اپنے مؤقف اور سابقہ فیصلوں کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کویت کی تمام زمینوں، جزائر اور مکمل سمندری حدود پر کسی بھی قسم کی مداخلت کو مسترد کرتے ہوئے دوطرفہ اور بین الاقوامی وعدوں اور اقوامِ متحدہ کی تمام متعلقہ قراردادوں کی پاسداری پر زور دیا۔
تاریخی تعلقات اور تعاون کی ضرورت
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ خلیج تعاون کونسل اور عراق کے درمیان باہمی احترام اور اچھی ہمسائیگی پر مبنی گہرے تاریخی تعلقات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے دعوے دونوں فریقین کے درمیان تعاون اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ میں مددگار ثابت نہیں ہوں گے۔








