بانی پی ٹی آئی کو شیڈول کے مطابق انکی رضامندی سے پمز لیجایا گیا، جیل مینول میں یہ درج نہیں کہ قیدی کا علاج اس کی منشا کے مطابق ہو: وزیر قانون
اسلام آباد میں وزیر قانون کا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ جیل مینول میں یہ درج نہیں کہ قیدی کا علاج اس کی منشاء کے مطابق ہونا چاہیے۔ یہ ممکن نہیں کہ وہ سابق وزیراعظم ہیں تو ان کا کیس دیگر مقدمات کو پیچھے چھوڑ کر سنا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی اسمبلی تقریر پورے صوبے کی ترجمانی تھی، عوام کا جبری انخلا کروا کر کہتے ہم نے نہیں کیا، اب ہم ان کو بھاگنے نہیں دیں گے،شفیع جان
عمران خان کی ہسپتال منتقلی
سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ عمران خان کو گزشتہ روز شیڈول کے مطابق اور ان کی رضامندی سے پمز لے جایا گیا، جہاں 4 ماہر ڈاکٹروں نے ان کا معائنہ کیا۔ عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے لیے رات کے وقت کا تعین سیکیورٹی اور لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے طے کیا جاتا ہے اور جب ٹریفک کا بوجھ کم ہو تو ہسپتال لایا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انتظامیہ کی پھرتیاں، وزیر آباد میں مریم نواز کے آنے سے پہلے ریلیف کیمپ قائم کیا گیا، دورے کے بعد کیمپ ختم، سامان واپس بھجوادیا گیا۔
ڈاکٹروں کی رپورٹ
’’جیو نیوز‘‘ کے مطابق اعظم نذیر تارڑ کے مطابق الشفا آئی ہسپتال سے ڈاکٹر ندیم اور پمز سے پروفیسر عارف نے عمران خان کا معائنہ کیا۔ ڈاکٹروں کی مشاورت کے بعد بانی پی ٹی آئی کو دوسری ڈوز بھی دی گئی ہے، جبکہ جیل مینول میں یہ درج نہیں کہ قیدی کا علاج اس کی منشاء کے مطابق ہونا چاہیے۔ عمران خان کو پروفیسر آف جنرل ہیلتھ نے بھی چیک کیا اور کوئی تشویشناک بات سامنے نہیں آئی۔
وزیر قانون کی دعا اور قانونی صورتحال
وزیر قانون کا مزید کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق بیان پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے مشورے پر دے رہا ہوں، ہم عمران خان کی صحت کے لیے دعا گو ہیں۔ بانی پی ٹی آئی بدقسمتی سے سزایافتہ ہیں اور انہیں رہا کرنے کا اختیار صرف عدالتوں کے پاس ہے، یہ ممکن نہیں کہ وہ سابق وزیراعظم ہیں تو ان کا کیس دیگر مقدمات کو پیچھے چھوڑ کر سنا جائے۔








