پنجاب حکومت نے سرکاری ملازمین کے لیے جلد ریٹائرمنٹ اور پینشن پر جانے کا راستہ محدود کر دیا، پینشن رولز میں ترامیم کا نوٹیفکیشن جاری
پنجاب حکومت کی نئی ریٹائرمنٹ پالیسی
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) حکومتِ پنجاب نے نئی پالیسی متعارف کراتے ہوئے رضاکارانہ اور جبری ریٹائرمنٹ کے قوانین میں تبدیلی کے ذریعے جلد ریٹائرمنٹ/پینشن پر جانے کے راستے کو محدود کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان: واشک اور ملحقہ علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 3.4 ریکارڈ
قوانین میں ترمیم
ایکسپریس نیوز کے مطابق محکمہ خزانہ پنجاب نے سول سرونٹس ایکٹ 1974ء کے تحت اختیارات استعمال کرتے ہوئے Punjab Civil Servants Act, 1974 کے مطابق Punjab Civil Services Pension Rules میں ترمیم کی ہے۔ یہ ترمیم فوری طور پر نافذ العمل ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: مہمند ڈیم کے مرکزی حصے کی تعمیر شروع ہو گئی
رضاکارانہ ریٹائرمنٹ کی نئی شرائط
سب سے اہم تبدیلی رضاکارانہ ریٹائرمنٹ کے حوالے سے کی گئی ہے۔ پہلے بعض صورتوں میں سرکاری ملازم 25 سال سروس مکمل کرنے کے بعد ریٹائرمنٹ لے سکتا تھا، چاہے اس کی عمر 55 سال سے کم ہی کیوں نہ ہو۔ اب نئے قانون کے مطابق اگر کوئی ملازم رضاکارانہ ریٹائرمنٹ لینا چاہے تو اسے دو شرائط پوری کرنا ہوں گی:
- کم از کم 25 سال قابلِ شمار سروس مکمل ہو۔
- عمر 55 سال ہو چکی ہو۔
اور ان دونوں میں جو شرط بعد میں پوری ہو، وہ لاگو ہوگی۔ یعنی اگر کسی ملازم کی 25 سال سروس مکمل ہو گئی لیکن عمر ابھی 52 سال ہے تو وہ ریٹائر نہیں ہو سکے گا، اسے 55 سال کی عمر مکمل ہونے کا انتظار کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: چاہت فتح علی خان بسنت منانے لاہور پہنچ گئے، پتنگ اٹھا کر ڈانس کی ویڈیو وائرل
جبری ریٹائرمنٹ کی وضاحت
اسی طرح جبری ریٹائرمنٹ (Compulsory Retirement) کے معاملے میں بھی وضاحت کی گئی ہے کہ 20 سال کی قابلِ شمار سروس مکمل ہونے کے بعد بعض حالات میں حکومت کسی ملازم کو جبری ریٹائر کر سکتی ہے یعنی کے پینشن کے لیے سروس کا 20 سال ہونا لازم ہوگا۔
بدعنوانی جیسے معاملات میں کارروائی بھی 20 سال سروس مکمل ہونے کے بعد کے تناظر میں دیکھی جائے گی۔
نئے قوانین کے تحت پینشن کے فوائد
رولز کے باب نمبر 4 (Chapter IV) میں بھی تبدیلی کی گئی ہے تاکہ پینشن کی رقم کا تعین نئے قوانین کے مطابق کیا جا سکے۔ واضح کیا گیا ہے کہ 25 سالہ سروس یا 55 سال کی عمر (جو بھی بعد میں ہو) پر لی گئی رضاکارانہ ریٹائرمنٹ اور 20 سالہ سروس پر ہونے والی جبری ریٹائرمنٹ، دونوں صورتوں میں پینشن کے فوائد نئے رولز کے تحت ہی ملیں گے۔








