سندھ ہائی کورٹ نے لاوارث اور یتیم بچوں کی رجسٹریشن کے لیے نادرا کی پالیسی کو غیرقانونی قرار دے دیا
سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) سندھ ہائیکورٹ نے لاوارث اور یتیم بچوں کی رجسٹریشن کیلئے نادرا کی پالیسی کو غیرقانونی قرار دے دیا۔ عدالت نے نادرا کو یونین کونسل اور سوشل ویلفیئرڈپارٹمنٹ کی مشاورت سے مکینزم بنانے کا حکم دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: شوال کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی کا اجلاس 19 مارچ کو طلب
عدالت کے سوالات
سما ٹی وی کے مطابق سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے قرار دیا کہ رجسٹرڈ یتیم خانوں میں مقیم لاوارث بچوں کو والدین کی تفصیلات اور قانونی دستاویزات جاری کی جائیں۔ دوران سماعت جسٹس عدنان الکریم میمن نے استفسار کیاکہ یتیموں کے لئے کوئی پالیسی نہیں یتیموں کے ساتھ کیا کرتے ہو؟ ڈائریکٹرسوشل ویلفیئر نے عدالت کو بتایا کہ صوبے میں 39 دارالاطفال ہیں، جبکہ سکھر میں ایک دارالاطفال ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 26ویں آئینی ترمیم پر فل کورٹ بینچ کیلئے سپریم کورٹ کے دو سینئر ججز کا چیف جسٹس کو خط
عدالت کی برہمی
جسٹس ذوالفقارسانگی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو کچھ نہیں معلوم، سکھر میں تین یتیم خانے ہیں۔ آپکے ادارے کا نام سوشل ویلفیئر ہے لیکن سوشل ویلفیئر کا کام کب کرتے ہو۔
نادرا کی پالیسی پر تنقید
جسٹس عدنان الکریم نے نادرا کے وکیل پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی پالیسی قانون کے خلاف ہے، کسی طبقے کو قومی ڈیٹابیس سے خارج نہیں کیا جاسکتا۔ کچھ عرصے بعد آپ کہیں گے 40 سال پرانا ریکارڈ لیکرآؤ۔ عدالت نے نادرا کو ہدایت کی کہ لاوارث بچوں کی رجسٹریشن کے لیے یکساں طریقہ کار وضع کریں۔








