حکومت خفیہ طور پر عمران خان کو سرکاری اسپتال منتقل کرتی ہے، جہاں بصارت کے ماہر معالج کی سہولت موجود نہیں، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی۔
صحت کی صورتحال پر تشویش
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی صحت کے حوالےسے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت عمران خان کو ایک بڑے سرکاری اسپتال منتقل کرتی رہی جہاں ماہر ڈاکٹر کی سہولت موجود نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایسا کوئی قانون نہیں ہوگا جس سے صوبوں کا اختیار کم ہوگا: ایمل ولی خان
علاج کے مطالبات
سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم بار بار یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ عمران خان کا مکمل اور تسلی بخش علاج ان کے ذاتی معالجین اور اہل خانہ کی موجودگی میں کرایا جائے۔یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ حکومت انہیں اہل خانہ اور ان کے ذاتی معالجین سے ملنے کی اجازت کیوں نہیں دے رہی۔
یہ بھی پڑھیں: خوشبو کی شاعرہ پروین شاکر کو بچھڑے 31 برس بیت گئے
نجی اسپتال کی ضرورت
ہم واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ عمران خان کا علاج ایک نجی اور معروف اسپتال میں کرایا جائے جہاں طبی سہولیات اور شفافیت کے حوالے سے ہمیں مکمل اطمینان ہو۔حکومت انہیں خفیہ طور پر وفاقی دارالحکومت کے ایک بڑے سرکاری اسپتال منتقل کرتی رہی ہے، حالانکہ وہاں آنکھوں کے پردہ بصارت کے ماہر معالج کی سہولت موجود نہیں ہے۔عمران خان کو دوسری مرتبہ خفیہ طور پر اسپتال منتقل کرنا اس امر کا ثبوت ہے کہ معاملہ سنجیدہ نوعیت اختیار کر چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ورلڈبینک نے تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کیلئے 9 سفارشات پیش کردیں
سیاست سے بالاتر مسئلہ
سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان کی صحت کے معاملے پر کسی قسم کی سیاست نہیں کی جا رہی بلکہ یہ ایک انسانی اور قانونی حق کا معاملہ ہے۔عمران خان کوئی عام شخصیت نہیں بلکہ ملک کے سابق وزیراعظم اور سب سے بڑے سیاسی قائد ہیں، اس لیے ان کی صحت سے متعلق کسی بھی قسم کی کوتاہی کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
حکومت کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عمران خان کی صحت کے ساتھ کوئی زیادتی ہوئی تو اس کا دباؤ براہ راست حکومت پر ہوگا۔عمران خان کی صحت کے حوالے سے قوم میں شدید تشویش اور غصہ پایا جاتا ہے اور حکومت کو اس حساس معاملے میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔پاکستان تحریک انصاف کو تیسرے درجے کا شہری نہ سمجھا جائے کیونکہ اس جماعت کے کارکنان بھی اسی ملک کے شہری ہیں اور انہی کے ٹیکس سے ریاستی اداروں کو تنخواہیں ملتی ہیں۔عمران خان نے ہمیشہ اداروں کے احترام کا درس دیا ہے، لہٰذا اداروں کو بھی اس احساس اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا.








