ٹیکس چھاپوں سے متعلق اہم فیصلہ جاری، حکام کو وسیع اختیارات حاصل
وفاقی آئینی عدالت کا اہم فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی آئینی عدالت کے جسٹس عامر فاروق نے ٹیکس چھاپوں سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: اوگرا کا پیٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ
ٹیکس حکام کے اختیارات
روزنامہ جنگ کے مطابق فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ٹیکس حکام کسی بھی وقت، بغیر پیشگی نوٹس کسی بھی جگہ چھاپہ مار سکتے ہیں، چھاپہ مارنے کے لیے ٹیکس دہندہ کے خلاف پہلے سے کوئی کیس چلنا ضروری نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پشپا 2 فلم کے ہیرو نے کتنا معاوضہ لیا؟ جان کر حیران ہوجائیں گے
عدالت کی دلیل
وفاقی آئینی عدالت نے بغیر کیس کے چھاپہ غیر قانونی ہونے کی دلیل مسترد کر دی۔
عدلت کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ نے ٹیکس حکام کو قانون کے نفاذ کے لیے وسیع اختیارات دیئے ہیں، عدالت قانون میں اپنی طرف سے کوئی ایسی شرط نہیں لگا سکتی جو مقننہ نے نہیں لکھی۔ جہاں مقننہ کی زبان صریح اور غیر مبہم ہو، وہاں عدالتیں اس میں تخصیص، تخفیف یا تضاد پیدا کرنے کی مجاز نہیں ہوتیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا بنوں کا دورہ، 12 شہدا کے جنازے میں شرکت، افغانستان پر واضح کردیا کہ خارجیوں اور پاکستان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرلیں، شہباز شریف
کمشنر کے فرائض
جسٹس عامر فاروق نے فیصلے میں کہا کہ کمشنر کو تحریری طور پر بتانا ہو گا کہ کس قانون کی خلاف ورزی پر چھاپہ مارا جا رہا ہے، ٹیکس حکام کمپیوٹر، دستاویزات اور اکاؤنٹس قبضے میں لینے کے مکمل مجاز ہیں۔
سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ
وفاقی آئینی عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے اپیل مسترد کر دی۔








