شاداب خان ممکنہ طور پر پاکستان کے اگلے ٹی 20 کپتان ہوں گے: شعیب ملک کا دعویٰ
شعیب ملک کا شاداب خان کے کپتان بننے کا امکان
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کے سابق کپتان شعیب ملک نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹی20 ورلڈ کپ میں پاکستان کی مایوس کن کارکردگی کے بعد کپتانی کے معاملے پر غور شروع ہو گیا ہے اور آل راؤنڈر شاداب خان کو سلمان علی آغا کی جگہ ممکنہ کپتان بنایا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انڈیا کا نیوزی لینڈ کے ہاتھوں کلین سویپ: ‘گمبھیر کے دور میں خوش آمدید’-1
شاداب خان کی قیادت کا مطالبہ
روزنامہ جنگ کے مطابق شعیب ملک نے ایک ٹی وی پروگرام میں کہا کہ شاداب خان کا نام اب ٹی 20 ٹیم کی قیادت کے لیے سامنے آنا شروع ہو گیا ہے، ہم چاہتے تھے کہ انہیں پہلے کپتان بنایا جائے، لیکن وہ اس وقت زخمی تھے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل، لاہور قلندرز نے پشاور زلمی کو جیت کے لیے بڑا ٹارگٹ دے دیا
آغا کی قیادت پر سوالات
انہوں نے کہا کہ آغا کی کمزور قیادت اور ورلڈ کپ میں محدود کارکردگی نے ان کی کپتانی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ اسی پروگرام میں سابق ٹیسٹ کرکٹر باسط علی نے کہا کہ پاکستان نے حالیہ برسوں میں کئی کپتان دیکھے ہیں، بابر اعظم، شاہین شاہ آفریدی اور شاداب خان سب نے قیادت کی ہے اور اب سلمان علی آغا کپتان ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: شاہد آفریدی نے قومی ٹیم کے کپتان محمد رضوان کو آڑے ہاتھوں لے لیا
باسط علی کی تنبیہ
تاہم باسط علی نے خبردار کیا کہ شاداب مناسب انتخاب نہ بھی ہو اور یاد دلایا کہ افغانستان کے خلاف کپتانی کے دوران پاکستان نے ایک کمزور ٹیم سے شکست کھائی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کا آبنائے ہرمز بند اور امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا اعلان
کامران اکمل کا سوال
دوسری جانب سابق وکٹ کیپر بیٹر کامران اکمل نے سوال اٹھایا ہے کہ آیا آغا کپتانی کے لیے تیار تھے یا نہیں؟
انہوں نے کہا کہ ایشیاء کپ اور ورلڈ کپ میں کپتان کے طور پر ان کا سب سے بڑا سکور 12 میچوں میں 32 رنز رہا، پی سی بی کو ایسے کپتان کا انتخاب کرنا چاہیے جو فرنٹ سے قیادت کرے اور خود اچھی کارکردگی دکھائے، کیونکہ جب کپتان کارکردگی دکھاتا ہے تو ٹیم بھی بہتر کھیلتی ہے۔
شاداب خان کی موجودہ کارکردگی
واضح رہے کہ شاداب خان کی موجودہ ورلڈ کپ میں کارکردگی بھی بہترین نہیں رہی، 4 میچوں میں انہوں نے صرف 5 وکٹیں حاصل کی ہیں اور 93 رنز دیے ہیں، جس سے قیادت کے لیے ان کے موزوں ہونے پر مزید سوالات اٹھ رہے ہیں۔








