سندھ ہائی کورٹ نے اساتذہ کی تنخواہ اور پنشن سے کٹوتی روکنے کا حکم جاری کر دیا
سندھ ہائیکورٹ میں سماعت
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) سندھ ہائیکورٹ میں آئینی بینچ نے اساتذہ کے ٹائم اسکیل ختم کرنے اور اضافی مراعات واپس لینے کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے تنخواہ اور پنشن سے کٹوتی روکنے کا حکم صادر کرتے ہوئے محکمہ خزانہ و دیگر کو مزید کارروائی سے بھی روک دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ہمسائیگی کے حوالے سے امن کا پیغام پھیلانا چاہیے، جب تک معاشی لوٹ کھسوٹ جاری رہے گی پاکستان اور بھارت میں معاشی انصاف ہو گا نہ امن
عدالتی احکامات
عدالت نے محکمہ تعلیم و دیگر فریقین کو نوٹس جاری کیا۔ عدالت نے درخواست کی سماعت تین ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: ڈیڑھ لاکھ ہنر مند پاکستانیوں کو بیلا روس میں روزگار ملے گا: عطا تارڑ
اساتذہ کے حقوق کی حفاظت
عدالت نے ریمارکس میں حکم صادر کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت تک اساتذہ کی تنخواہ یا پنشن سے کسی قسم کی جبری وصولی نہ کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور چین تاریخی و ثقافتی اعتبار سے ایک دوسرے سے جڑے ہیں: وزیراعظم
وکیل کا موقف
وکیل اسد اللہ بلو کا کہنا تھا کہ درخواست گزار محکمہ تعلیم میں ریٹائرڈ اور حاضر سروس اساتذہ ہیں، درخواست گزار ڈرائنگ ٹیچرز، فزیکل ٹریننگ انسٹرکٹرز اور ورکشاپ انسٹرکٹرز کے کیڈرز سے تعلق رکھتے ہیں۔ متعلقہ اساتذہ کو سروس کے دوران قواعد و ضوابط کے تحت ترقی اور اپ گریڈیشن دی گئی۔
حکومتِ سندھ کی پالیسی
حکومتِ سندھ کی ٹائم اسکیل پالیسی کے مطابق گریڈ 15 سے 20 تک تنخواہیں ادا کی جاتی رہیں، محکمہ فنانس نے 21 جنوری کو خط لکھا تھا۔ خط کے بعد محکمہ اسکول ایجوکیشن نے بھی عملدرآمد کا مراسلہ جاری کیا، درخواست گزار نے کہا کہ تنخواہوں میں کٹوتی اور دی گئی اضافی رقوم کی واپسی غیر قانونی ہے، کئی اساتذہ تو ریٹائرڈ بھی ہو چکے ہیں۔








