جنیوا میں تقریباً 3 گھنٹے مذاکرات، کن اہم تجاویز پر بات ہوئی؟ ایرانی وزارت خارجہ نے تفصیلات شیئر کر دیں
جنیوا مذاکرات کی تفصیلات
جنیوا (مانیٹرنگ ڈیسک) جنیوا میں تقریباً 3 گھنٹے مذاکرات ہوئے، کن اہم تجاویز پر بات ہوئی؟ ایرانی وزارت خارجہ نے تفصیلات شیئر کر دیں۔
یہ بھی پڑھیں: ترقی اتنی بری نہیں جیس طرح بتائی جاتی ہے، جان بوجھ کر ہمارے لیے ندامت والا ماحول بناتے ہیں، اگلی میٹنگ کے لیے میرا ہدف 45 فیصد ہوگا۔
مذاکرات کا پس منظر
سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں عمان کی ثالثی میں ایران اور امریکہ کے مذاکرات کے تیسرے دور کے دوران بات چیت کا وقفہ ہوا ہے۔ عمانی وزیر خارجہ نے ایرانی مسودہ امریکی وفد کو پیش کیا۔ عمانی وزیر خارجہ کے مطابق، امریکی وفد سے ملاقات میں ایران کی تجاویز کا جائزہ لیا گیا اور معاہدے کے لیے ضروری ضمانتوں پر بات کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: وینزویلا پر کنٹرول کے بعد ٹرمپ کی میکسیکو، کولمبیا اور کیوبا کو بھی دھمکیاں
اہم تجاویز پر گفتگو
’’جنگ‘‘ کے مطابق، ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ جنیوا میں تقریباً 3 گھنٹے جاری رہنے والے مذاکرات میں جوہری پروگرام اور پابندیوں کے خاتمے کے حوالے سے اہم تجاویز پیش کی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں گڈ گورننس کا فقدان، پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر
مذاکرات کی سنجیدگی
ترجمان وزارت خارجہ نے ایرانی ٹیلی ویژن کو بتایا کہ مذاکرات بہت سنجیدہ تھے اور کئی اقدامات ایسے کیے گئے ہیں جن پر مزید ممالک سے مشاورت کی ضرورت ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ مذاکرات تیسرے مرحلے سے آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سرکاری حج سکیم کے لیے درخواست جمع کروانے والے تمام امیدواروں کو کامیاب قرار دے دیا گیا
ایران کی سلامتی کی پوزیشن
ایرانی دفاعی کونسل کے سیکریٹری علی شمخانی کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات کا بنیادی مقصد ایران کا جوہری ہتھیار تیار نہ کرنا ہے تو یہ ایرانی قیادت کے فتوے اور ایران کے دفاعی نظریئے کے عین مطابق ہے۔ عباس عراقچی کے پاس حمایت اور اختیار ہے کہ وہ کسی معاہدے پر پہنچ سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ملک و قوم کے لیے قابلِ قدر خدمات انجام دیں: وزیر اعلیٰ مریم نواز
ایران کی تجاویز
اسرائیلی میڈیا کے مطابق، ایران کی طرف سے یورینیم افزودگی کی 7 سالہ معطلی، افزودگی میں 60 فیصد کمی اور جوہری بجلی گھر کے لیے افزودگی 3 اعشاریہ 6 فیصد پر لانے کی تجاویز دی گئی ہیں، لیکن ایران نے یورینیم ذخائر بیرون ملک منتقل کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ کا بیان
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے آج کے مذاکرات کے نتیجہ خیز ہونے کی امید ظاہر کی ہے۔ اس سے پہلے، ایرانی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ اگر خطے کے ممالک کی حدود ایران کے خلاف استعمال ہوئیں تو ان ملکوں میں امریکی اڈوں کو ہدف بنانا جائز ہوگا۔








