طالبان رجیم دہشتگردوں کی ماسٹرپراکسی ہے، یواین رپورٹ کہتی ہے 21 کے قریب دہشتگرد تنظیمیں آپریٹ ہورہی ہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر
آپریشن غضب للحق کی بریفنگ
راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن)ڈی آئی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری افغانستان کی طالبان رجیم کے خلاف آپریشن غضب للحق کے حوالے سے بریفنگ دے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چیمپئنز ٹرافی 2025 کے معاملے پر قوم کو مایوس نہیں کریں گے، محسن نقوی
بارڈر کے قریب کارروائیاں
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 21 اور 22 فروری کی شب پاکستانی افواج نے بارڈر کے قریب فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، افغان طالبان رجیم نے اسے بنیاد بنا کر سوکالڈ ایکشن کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پیدل موٹروے کراس کرنے والے شخص کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا
طالبان رجیم اور دہشت گردی
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کا کہنا ہے کہ طالبان رجیم دہشتگردوں کی ماسٹرپراکسی ہے، یواین رپورٹ کہتی ہے 21 کے قریب دہشتگرد تنظیمیں آپریٹ ہورہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سرگودھا کی تحصیل کوٹ مومن میں مدرسے کا طالب علم مبینہ تشدد سے جاں بحق
فائرنگ کے واقعات
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہاکہ طالبان رجیم کی جانب سے پاک افغان بارڈر پر 15 سیکٹرز میں 53 مقامات پر فائرنگ کی گئی، تمام 53 مقامات پر حملوں کو پسپا کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایسا بھرپور جواب دیا کہ دنیا نے دیکھا، تمام 53 مقامات پر دشمن کو منہ توڑ جواب دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: مشکلوں سے نکل آئے ہیں، اگلی منزل صرف ترقی ہے:وزیر خارجہ اسحاق ڈار
آپریشن کے نتائج
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آپریشن غضب للحق میں 274 طالبان رجیم کے اہلکار اور خوارج ہلاک، جبکہ 400 سے زائد زخمی ہوئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ طالبان رجیم کی 74 سے زائد پوسٹیں مکمل طور پر تباہ کی گئیں، طالبان رجیم کی 18 چوکیاں پاکستان کے قبضے میں ہیں جبکہ دشمن کے 115 ٹینک، بکتربند گاڑیاں تباہ کی جاچکی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ اور برطانوی وزیر اعظم کا رابطہ، اجتماعی دفاع کیلئے برطانوی فضائیہ کے اڈوں کے استعمال پر بات چیت
فضائی کارروائیاں
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ فضائی کارروائیوں میں افغانستان کے مختلف علاقوں کو ٹارگٹ کیا گیا، اہداف میں کسی بھی سویلین کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ کہا جارہا ہے کہ افغانستان میں سویلین انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایاگیا، افغان میڈیا اور سوشل میڈیا کا جھوٹ کل سے سن رہے ہیں، دہشت گردوں کی پوسٹوں اور گن پوزیشنز کو نشانہ بنایا گیا۔
شہادت اور اعزاز
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ افغان طالبان اور دہشت گردوں نے مل کر پاکستان پر حملہ کیا، کلمہ طیبہ کی وجہ سے افغان پرچم احترام سے اتارا گیا، آپریشن میں پاک فوج کے 12 سپوتوں نے جام شہادت نوش کیا۔








