امریکہ نے ایران پر ممکنہ حملے کے پیش نظر امریکی سفارتخانے کے عملے کو اسرائیل سے فوری انخلا کا حکم دےدیا
امریکہ کا سفارتخانے کے عملے کی واپسی کا حکم
تہران(ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکہ نے ایران پر ممکنہ حملے کے پیش نظر اسرائیل میں واقع اپنے سفارتخانے کے عملے کو فوری طور پر انخلا کا حکم دے دیا ہے۔ امریکہ کے اسرائیل میں سفیر مائیک ہکابی نے بیان دیا کہ اگر سفارتخانہ کے اہلکار ملک چھوڑنے کی خواہش رکھتے ہیں تو انہیں آج ہی روانہ ہونا چاہئے۔
یہ بھی پڑھیں: زندگی میں ایسے دوست ساتھیوں کو نہیں بھول سکتے جنہوں نے آپ کے خلوص نیت کو پہچانا ہو، جذبات کی قدر کی ہو اور اچھے بْرے حالات میں ساتھ دیا ہو.
برطانوی حکومت کی جانب سے عملے کی واپسی
برطانوی حکومت نے بھی ایران سے اپنے عملے کو واپس بلا لیا ہے۔ یہ فیصلہ موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر ایک عارضی احتیاطی اقدام کے طور پر کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وادی تیرہ واقعہ فضائی کارروائی نہیں دہشتگردوں کے بارودی مواد بنانے والی فیکٹری میں دھماکے کا نتیجہ تھا: عالمی میڈیا
ایران-امریکہ کشیدگی کے اثرات
ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدہ صورتحال کا اثر یورپی ہوائی سفر پر بھی پڑا ہے۔ ڈچ ائیر لائن کے ایل ایم نے اسرائیل کے لئے اپنی پروازیں بند کرنے کا اعلان کیا۔ اسی طرح، آسٹریلیا نے اسرائیل، لبنان، اردن، قطر اور امارات سے اپنے شہریوں کو نکالنے کے لئے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
امریکہ کی فوجی تیاری
اس کے علاوہ، امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں مزید 6 ایف 22 طیارے روانہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔








