جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب خیبرپختونخوا کے مختلف پولیس تھانوں اور چوکیوں پر حملے ناکام، جوابی کارروائی میں دہشتگرد فرارہونے پر مجبور
پشاور میں پولیس کی مؤثر کارروائیاں
پشاور (ویب ڈیسک) خیبر پختونخوا پولیس نے پشاور، خیبر، ہنگو اور بنوں ریجن کے مختلف تھانوں اور چوکیوں پر ہونے والے متعدد حملوں کو بروقت اور مؤثر کارروائی کے ذریعے ناکام بنا دیا۔
یہ بھی پڑھیں: اگر قاسم اور سلمان نے برطانوی شہری بن کر پاکستان آنا ہے تو ایسی صورت میں برطانوی حکومت نے انہیں مظاہروں اور ہجوم سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے، عثمان شامی
حملوں کی تفصیلات
پولیس حکام کے مطابق جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب ضلع خیبر اور متنی کے مختلف علاقوں میں شرپسندوں نے پولیس تنصیبات کو ہینڈ گرینیڈ اور چھوٹے بڑے ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔ جیونیوز کے مطابق پشاور کے علاقے بڈھ بیر میں ماشو گگر روڈ کی جانب سے تھانے پر دستی بم حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں روزنامچہ میں موجود ہیڈ کانسٹیبل فیصل زخمی ہوگئے۔ تھانہ متنی کی حدود میں پی پی سرا خاورہ پر بھی دستی بم حملے میں ایک شہری زخمی ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت پنجاب صحافیوں کے لیے اپنے گھر کی تعمیر میں بھرپور معاونت کرے گی، وزیراعلیٰ مریم نواز کی لاہور پریس کلب کی نومنتخب قیادت کو مبارکباد
بنوں میں فائرنگ کا واقعہ
بنوں میں تھانہ منڈان کی حدود میں پی پی کنگر پل پر رات کے پہلے پہر مختلف سمتوں سے اسنائپر رائفلز کے ذریعے فائرنگ کی گئی۔ اسی طرح تھانہ ڈومیل کی چوکی کاشو پل پر بھی حملہ کیا گیا۔ پولیس کی فوری جوابی کارروائی کے بعد تقریباً 15 منٹ تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا، جس کے نتیجے میں حملہ آور فرار ہونے پر مجبور ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں: مجھے نہیں لگتا شہبازشریف 2027 تک وزیراعظم رہیں گے، مفتاح اسماعیل
ایمرجنسی کی حالت
ڈی پی او یاسر آفریدی نے بتایا کہ بنوں شہر میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔ تمام شاہراہوں اور چوکوں پر پولیس تعینات کردی گئی۔ ادھر ضلع خیبر کے علاقے باڑہ میں تکیہ پولیس چیک پوسٹ پر نامعلوم افراد نے دستی بم پھینکا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ پولیس کی جانب سے مؤثر جوابی فائرنگ کی گئی جس کے بعد حملہ آور پسپا ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کی ایک اور فالس فلیگ آپریشن کی سازش بے نقاب
ہنگو میں پولیس کی جوابی کارروائی
ہنگو میں قاضی تالاب کے مقام پر پولیس چیک پوسٹ پر فائرنگ کی گئی۔ ڈی پی او کے مطابق پولیس نے جوابی کارروائی کرکے حملہ کو پسپا کردیا اور دہشت گرد فرار ہوگئے۔ انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے فرنٹ لائن پر موجود جوانوں کی بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پولیس فورس ہر قسم کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔
زخمیوں کی صحت یابی کی دعا اور سکیورٹی صورتحال
انہوں نے زخمی اہلکار اور شہری کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور کہا کہ ایسے بزدلانہ حملے پولیس کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔ پولیس کے مطابق واقعے کے بعد تمام متاثرہ علاقوں میں سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشن شروع کر دیا گیا ہے جبکہ سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی۔








