جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب خیبرپختونخوا کے مختلف پولیس تھانوں اور چوکیوں پر حملے ناکام، جوابی کارروائی میں دہشتگرد فرارہونے پر مجبور
پشاور میں پولیس کی مؤثر کارروائیاں
پشاور (ویب ڈیسک) خیبر پختونخوا پولیس نے پشاور، خیبر، ہنگو اور بنوں ریجن کے مختلف تھانوں اور چوکیوں پر ہونے والے متعدد حملوں کو بروقت اور مؤثر کارروائی کے ذریعے ناکام بنا دیا۔
یہ بھی پڑھیں: میرے ذہن میں کنفیوژن تھی کہ اگر سینیٹ امیدواروں کی لسٹ عمران خان نے منظور کی تو میرٹ کی دھجیاں اڑادیں:اینکرپرسن عدنان حیدر
حملوں کی تفصیلات
پولیس حکام کے مطابق جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب ضلع خیبر اور متنی کے مختلف علاقوں میں شرپسندوں نے پولیس تنصیبات کو ہینڈ گرینیڈ اور چھوٹے بڑے ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔ جیونیوز کے مطابق پشاور کے علاقے بڈھ بیر میں ماشو گگر روڈ کی جانب سے تھانے پر دستی بم حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں روزنامچہ میں موجود ہیڈ کانسٹیبل فیصل زخمی ہوگئے۔ تھانہ متنی کی حدود میں پی پی سرا خاورہ پر بھی دستی بم حملے میں ایک شہری زخمی ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: آپریشن ’’بنیان مرصوص‘‘ کی کامیابی: وزیراعظم کا آج یوم تشکر منانے کا اعلان
بنوں میں فائرنگ کا واقعہ
بنوں میں تھانہ منڈان کی حدود میں پی پی کنگر پل پر رات کے پہلے پہر مختلف سمتوں سے اسنائپر رائفلز کے ذریعے فائرنگ کی گئی۔ اسی طرح تھانہ ڈومیل کی چوکی کاشو پل پر بھی حملہ کیا گیا۔ پولیس کی فوری جوابی کارروائی کے بعد تقریباً 15 منٹ تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا، جس کے نتیجے میں حملہ آور فرار ہونے پر مجبور ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں: سمہ سٹہ ایک بڑا جنکشن تھا، یہاں تقریباً تمام گاڑیاں ٹھہرا کرتی تھیں، اسے ہندوستان کے اندر جانے والی دوسری مرکزی لائن بھی کہا جاتا تھا
ایمرجنسی کی حالت
ڈی پی او یاسر آفریدی نے بتایا کہ بنوں شہر میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔ تمام شاہراہوں اور چوکوں پر پولیس تعینات کردی گئی۔ ادھر ضلع خیبر کے علاقے باڑہ میں تکیہ پولیس چیک پوسٹ پر نامعلوم افراد نے دستی بم پھینکا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ پولیس کی جانب سے مؤثر جوابی فائرنگ کی گئی جس کے بعد حملہ آور پسپا ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں: 17 سالہ ملازمت کے دوران مجھے ڈاکٹر عطیہ عنایت اللہ کی شخصیت نے بے حد متاثر کیا، پروجیکٹ پروگرام پلاننگ اور اْن کو مکمل کروانے میں کمال حاصل ہے
ہنگو میں پولیس کی جوابی کارروائی
ہنگو میں قاضی تالاب کے مقام پر پولیس چیک پوسٹ پر فائرنگ کی گئی۔ ڈی پی او کے مطابق پولیس نے جوابی کارروائی کرکے حملہ کو پسپا کردیا اور دہشت گرد فرار ہوگئے۔ انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے فرنٹ لائن پر موجود جوانوں کی بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پولیس فورس ہر قسم کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔
زخمیوں کی صحت یابی کی دعا اور سکیورٹی صورتحال
انہوں نے زخمی اہلکار اور شہری کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور کہا کہ ایسے بزدلانہ حملے پولیس کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔ پولیس کے مطابق واقعے کے بعد تمام متاثرہ علاقوں میں سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشن شروع کر دیا گیا ہے جبکہ سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی۔








