کوئی مذاکرات نہیں: پاکستان نے افغانستان کی مذاکرات کی تجویز مسترد کر دی
افغانستان کی مذاکرات کی تجاویز مسترد
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم پاکستان کے ترجمان برائے غیر ملکی میڈیا مشرف زیدی نے افغانستان کی مذاکرات کی تجاویز کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خواتین اور بچیوں کے خلاف تشدد کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے: سہیل شوکت بٹ
افغان طالبان کا بیان
تفصیلات کے مطابق مشرف زیدی کی جانب سے یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے گزشتہ روز پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ان کا ملک کشیدگی کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے تیار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آسٹریلیا کا بچوں کو سوشل میڈیا کے استعمال سے روکنے کیلئے قانون سازی کا اعلان
مشرف زیدی کا موقف
مشرف زیدی نے انٹرویو کے دوران بتایا کہ کوئی بات چیت نہیں ہوگی، کوئی مذاکرات نہیں، کوئی گفت و شنید نہیں، افغانستان سے دہشت گردی بند ہونی چاہیے۔
پاکستان کی ذمہ داریاں
انہوں نے زور دے کر کہا کہ پاکستان کی ذمہ داری صرف اپنے شہریوں اور سرزمین کی حفاظت تک محدود ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ "اگر ہمیں معلوم ہو کہ کوئی دہشت گرد کسی مقام پر موجود ہے تو ہم اس مقام کو نشانہ بنا کر خطرے کو ختم کریں گے۔








