خامنہ ای کہاں ہیں۔۔؟
ایران پر فضائی حملوں کے بعد خامنہ ای کی عدم موجودگی
لاہور (خصوصی رپورٹ) امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر بڑے پیمانے پر فضائی حملوں کے بعد ایرانی سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای کی موجودگی کے بارے میں سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سابق وزیر اعظم نوازشریف اور وزیراعلیٰ مریم نواز سے کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائیننس کے بانی چانگ پنگ ژاؤ کی ملاقات
حملوں کی تفصیلات
’’جنگ‘‘ کے مطابق بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران میں ہونے والے حملوں میں ابتدائی دھماکوں میں سے ایک خامنہ ای کے دفتر کے قریب بھی رپورٹ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور، اے ٹی سی نے علیمہ خان کے صاحبزادے شیرشاہ کا 5 دن کا جسمانی ریمانڈ دے دیا
خامنہ ای کی محفوظ مقام پر منتقلی
خبر رساں ادارے ’’رائٹرز‘‘ کے مطابق ایک ذریعے نے بتایا ہے کہ حملے کے وقت خامنہ ای تہران میں موجود نہیں تھے اور اِنہیں پہلے ہی ایک محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا تاہم ان کے مقام یا منتقلی کے وقت سے متعلق تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی کنسلٹنٹس انسپکشن کے لیے آئے، فیلڈ میں جا کر کام کرتے رہے، ہم نے محسوس کیا کہ وہ ہم سے زیادہ جانفشانی سے کام کر رہے ہیں
امریکی فوج کی کارروائی کی تصدیق
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ امریکی افواج نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کر دی ہے۔
آپریشن کا مقصد
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر جاری 8 منٹ کی ویڈیو میں کہا ہے کہ ’’اس آپریشن کا مقصد امریکی عوام اور مفادات کو ’’ایرانی حکومت کے فوری خطرات‘‘ سے بچانا ہے۔ ایرانی حکومت گزشتہ کئی دہائیوں سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف سرگرم ہے اور اس کی کارروائیاں امریکی فوجی اڈوں اور مفادات کے لیے خطرہ ہیں۔‘‘








