ایران کے تمام اعلیٰ حکام محفوظ اور خیریت سے ہیں، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی
ایران کی قیادت کی زندگیوں بارے افواہیں
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں کے بعد ایران کی اعلیٰ قیادت کی زندگیوں کے بارے میں پریشان کن افواہیں زیر گردش ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسلامی نظریاتی کونسل نے کم سنی کی شادی کے امتناع کا بل مسترد کردیا
ایرانی وزیر خارجہ کا بیان
امریکی نشریاتی ادارے این بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ان افواہوں پر کھل کر گفتگو کی اور کہا ہے کہ میری معلومات کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای بالکل خیریت سے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کے عوام کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا: خواجہ سلمان رفیق
حملوں کے اثرات
البتہ انھوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ممکن ہے ہمارے ایک یا دو فوجی کمانڈر ہلاک ہوئے ہوں لیکن تقریباً تمام اعلیٰ حکام محفوظ اور خیریت سے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور میں جھگڑکے کے دوران ہونے والی فائرنگ کی زد میں آکر ٹیوشن جانے والا بچہ جاں بحق
ایران کا موقف
ایران کشیدگی میں کمی چاہتا ہے اور مذاکرات کے لیے تیار ہے تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ امریکا اور اسرائیل اپنی فوجی کارروائیاں بند کریں۔ اگر امریکا دوبارہ ایران سے بات چیت شروع کرنا چاہتا ہے تو صدر ٹرمپ کو معلوم ہے کہ رابطہ کیسے اور کس طرح کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے ایپسٹین کیس سے عوامی توجہ ہٹانے کیلیے ایران جنگ چھیڑی
اسرائیلی فوج کا دعویٰ
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں ایسے مقامات کو نشانہ بنایا جہاں اعلیٰ سیاسی اور سکیورٹی شخصیات موجود تھیں۔
مشترکہ فوجی آپریشن
رپورٹس کے مطابق یہ کارروائی امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ فوجی آپریشن کے تحت کی گئی جس کا مقصد ایرانی قیادت اور عسکری ڈھانچے کو نشانہ بنانا تھا۔








