ایران کے تمام اعلیٰ حکام محفوظ اور خیریت سے ہیں، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی
ایران کی قیادت کی زندگیوں بارے افواہیں
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں کے بعد ایران کی اعلیٰ قیادت کی زندگیوں کے بارے میں پریشان کن افواہیں زیر گردش ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو اپنے سپہ سالار کی قیادت میں بھارت کو منہ توڑ جواب دیں گے: قومی یکجہتی کا نفرنس سے علماء کا خطاب
ایرانی وزیر خارجہ کا بیان
امریکی نشریاتی ادارے این بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ان افواہوں پر کھل کر گفتگو کی اور کہا ہے کہ میری معلومات کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای بالکل خیریت سے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خاتون نے 30 سال بعد سگریٹ چھوڑی تو زندگی میں کیا تبدیلیاں آئیں؟
حملوں کے اثرات
البتہ انھوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ممکن ہے ہمارے ایک یا دو فوجی کمانڈر ہلاک ہوئے ہوں لیکن تقریباً تمام اعلیٰ حکام محفوظ اور خیریت سے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کی باہر بیٹھی قیادت وہ نہ کرسکی جو میں نے جیل میں بیٹھ کر کیا:شاہ محمود قریشی
ایران کا موقف
ایران کشیدگی میں کمی چاہتا ہے اور مذاکرات کے لیے تیار ہے تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ امریکا اور اسرائیل اپنی فوجی کارروائیاں بند کریں۔ اگر امریکا دوبارہ ایران سے بات چیت شروع کرنا چاہتا ہے تو صدر ٹرمپ کو معلوم ہے کہ رابطہ کیسے اور کس طرح کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے سفیر برائے متحدہ عرب امارات شفقت علی خان کی طرف سے امارات میں مقیم پاکستانیوں کو یوم پاکستان کی مبارکباد
اسرائیلی فوج کا دعویٰ
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں ایسے مقامات کو نشانہ بنایا جہاں اعلیٰ سیاسی اور سکیورٹی شخصیات موجود تھیں۔
مشترکہ فوجی آپریشن
رپورٹس کے مطابق یہ کارروائی امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ فوجی آپریشن کے تحت کی گئی جس کا مقصد ایرانی قیادت اور عسکری ڈھانچے کو نشانہ بنانا تھا۔








