سیکیورٹی اتنی سخت تھی کہ خامنہ ای سے ملاقات کیلئے لوگوں کو آنکھوں پر پٹی باندھ کر لے جایا جاتا تھا، ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی کو بھی خامنہ ای کے خفیہ ٹھکانے پر لے جانے سے پہلے آنکھوں پر پٹی باندھی گئی، بڑا دعویٰ۔
خامینئی کی زندگی کے آخری ایام
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی زندگی کے آخری ایام اور ان کی سیکیورٹی کے حوالے سے حیرت انگیز انکشافات سامنے آئے ہیں، جن کے مطابق ایرانی انٹیلی جنس اس قدر خوف زدہ تھی کہ انہوں نے اپنے ہی اعلیٰ حکام پر بھروسہ کرنا چھوڑ دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: قطر سے اظہار یکجہتی کے لیے عرب اور اسلامی ممالک کے ہنگامی سربراہی اجلاس کا اعلامیہ جاری
خامنہ ای کا زیرِ زمین بنکر
تجزیہ کار شاناکا انسلم پریرا نے دعویٰ کیا ہے کہ جون 2025 میں اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے بعد خامنہ ای تہران میں ایک زیرِ زمین بنکر میں روپوش ہو گئے تھے۔ سیکیورٹی پروٹوکولز اس حد تک سخت اور پراسرار تھے کہ سپریم لیڈر سے ملاقات کے لیے آنے والے اعلیٰ ترین سرکاری حکام کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ دی جاتی تھیں تاکہ انہیں خفیہ ٹھکانے کے راستوں کا علم نہ ہو سکے۔ یہاں تک کہ ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی کو بھی آنکھوں پر پٹی باندھ کر خامنہ ای کے ٹھکانے تک لے جایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: انمول بلوچ کے ساڑھی میں بولڈ تصاویر وائرل ہوگئیں
امریکی انٹیلی جنس کی نگرانی
امریکی انٹیلی جنس ایجنسی سی آئی اے (CIA) مہینوں سے ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھی اور ان کے معمولات کا نقشہ تیار کر چکی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 17 جون 2025 کو سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں سرعام دعویٰ کیا تھا کہ انہیں معلوم ہے کہ خامنہ ای کہاں چھپے ہوئے ہیں اور وہ ایک آسان ہدف ہیں۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ انہوں نے خامنہ ای کو ایک ذلت آمیز موت سے بچایا ہے۔
سیکیورٹی میں ناکامی
امریکی صدر کی جانب سے عوامی سطح پر وارننگ دیے جانے کے باوجود، ایران کا مضبوط ترین سیکیورٹی ڈھانچہ جدید نگرانی کے نظام کا مقابلہ نہ کر سکا جس کی وجہ سیٹلائٹ ٹیکنالوجی اور جدید ترین جاسوسی نیٹ ورک تھا۔ بالاآخر، سی آئی اے نے ہفتے کی صبح تہران کے ایک کمپاؤنڈ میں اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران خامنہ ای کی موجودگی کی تصدیق کی اور انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی مکمل کی۔ اس واقعے نے ثابت کر دیا کہ کوئی بھی بنکر یا آنکھوں پر بندھی پٹیاں جدید دور کے 'ڈیجیٹل سرویلنس' (Surveillance) سے نہیں بچا سکتیں۔ آپ اپنے لوگوں کو تو اندھا کر سکتے ہیں، لیکن آسمان پر موجود سیٹلائٹس کو نہیں۔








