منشیات برآمدگی کیس میں ملزم کی سزا کا فیصلہ کالعدم قرار
سپریم کورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں ہائیکورٹ اور ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ملزم سردار محمد کی سزا کی بریت کا حکم دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: عام انتخابات 2024 کے بعد ووٹرز کی تعداد میں 60 لاکھ کا اضافہ
پروسیکیوشن کی ناکامی
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے حکم جاری کیا ہے کہ ملزم اگر کسی اور کیس میں مطلوب نہیں تو فوری رہا کیا جائے۔ پراسیکیوشن کیس ثابت کرنے میں ناکام رہا جس کے باعث سپریم کورٹ ملزم کو شک کا فائدہ دے کر رہا کرنے کا حکم جاری کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یورپی ملک نے پاکستانی طلباء کے لیے 400 مکمل فنڈڈ اسکالرشپس کا اعلان کر دیا
گواہوں کے بیانات میں تضادات
جسٹیس اشتیاق ابراہیم نے تحریری فیصلہ میں لکھا کہ گواہوں کے بیانات میں واضح تضادات موجود ہیں۔ ریکارڈ کے مطابق پولیس گواہان کے جائے وقوعہ پر پہنچنے کے وقت اور مقام کے بیانات میں بھی فرق پایا گیا ہے جبکہ منشیات کی برآمدگی سے لیبارٹری منتقلی تک سیف کسٹڈی کا تسلسل بھی ثابت نہیں ہو سکا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی کی گلی جہاں جانوروں کا میلہ لگ گیا، ایک سے بڑھ کر ایک قربانی کا جانور آپ کو اس گلی میں ملے گا۔
ثبوت کا معیار
فیصلہ میں مزید لکھا گیا کہ مال مقدمہ کی منتقلی میں تاخیر اور خلا پراسیکیوشن کے کیس کے لیے مہلک ثابت ہوا۔ علاوہ ازیں، جائے وقوعہ کا نقشہ اور روزنامچہ کی انٹریز عدالت میں پیش نہیں کی گئیں جبکہ سخت سزا والے کیسز میں ثبوت کا معیار بھی سخت اور شک و شبہ سے بالاتر ہونا چاہیے۔
کیس کی تاریخ
یاد رہے تھانہ لورالائی میں ملزم کے خلاف 15 کلو چرس برآمدگی کا کیس درج تھا جس میں ٹرائل کورٹ نے ملزم سردار محمد کو عمر قید کی سزا سنائی تھی، جس کے بعد بلوچستان ہائیکورٹ کوئٹہ نے ٹرائل کورٹ کی سزا برقرار رکھنے کا فیصلہ دیا تھا۔








