چین: جمع شدہ رقم واپس لینے پر بچے نے والد کیخلاف مقدمہ دائر کر دیا
چین میں بچے کا والد کے خلاف عدالت میں مقدمہ
بیجنگ(ڈیلی پاکستان آن لائن) چین میں ایک بچے نے اپنی جمع شدہ رقم واپس لینے کے لیے والد کے خلاف عدالت میں کیس دائر کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا حکومت کے خلاف دانستہ طور پر ایک منظم اور مسلسل پروپیگنڈا مہم چلائی جا رہی ہے، یارمحمد خان نیازی
بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات
شمالی چین کے صوبے ہینان کے شہر ژینگژو میں ایک شخص نے سالوں پہلے اپنے بیٹے شیاؤ ہوئی کے نام سے ایک بینک اکاؤنٹ کھولا تھا۔ اس میں بچے کی قمری سالِ نو کے تحفے، جسے ریڈ اینویلپ منی کہا جاتا ہے، سمیت دیگر رقم جمع کرواتے رہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے JF-17C اور C-130 کو RIAT 2025 میں عالمی سطح پر پذیرائی
والد کی غلطی
تاہم ایک دن والد نے بچے کی اجازت کے بغیر یہ تمام رقم نکال کر اپنی دوسری شادی پر خرچ کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: اگر آپ اپنے بچوں کو یہاں لانے کے لیے تیار نہیں تو لوگوں کے بچوں کو پاکستان کی سیاسی آگ کا ایندھن نہ بنائیں، سلمان غنی۔
طلاق اور بچت کی صورتحال
دو سال قبل والدین کی طلاق کے بعد شیاؤ ہوئی اپنے والد کے ساتھ رہ رہا تھا۔ اس دوران اس کی بچت باقاعدگی سے اسی بینک اکاؤنٹ میں جمع ہوتی رہی، جبکہ والد نے دوبارہ شادی کر لی اور شیاؤ ہوئی کو اس کی والدہ کے پاس بھیج دیا۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی کابینہ کا اجلاس شروع، 26 ویں آئینی ترمیم کے مسودہ کی منظوری دیدی
رقم کا انکشاف
بیٹے کی ماں کو معلوم ہوا کہ والد نے شیاؤ ہوئی کی تقریباً 80 ہزار یوآن (تقریباً 11 ہزار 700 امریکی ڈالرز) کی جمع شدہ رقم نکال کر اپنی شادی کے اخراجات میں استعمال کر دی ہے، جو بچے کی عمر کے لحاظ سے کافی بڑی رقم تھی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان فوج نے ایل او سی پر بھارت کی گفدار پوسٹ بھی تباہ کر دی
عدالت کا مقدمہ
جب شیاؤ ہوئی نے اپنی جمع شدہ رقم واپس مانگی تو والد نے کہا کہ یہ زیادہ تر خاندان اور دوستوں کی جانب سے دی گئی رقم ہے اور صرف اس وقت واپس کریں گے جب شیاؤ ہوئی بالغ ہو جائے گا۔ متعدد کوششوں کے ناکام ہونے پر شیاؤ ہوئی نے والد کے خلاف عدالت سے رجوع کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب: مسیحی قیدیوں کیلئے جیلوں میں کرسمس تقریبات منعقد کرنےکا فیصلہ
والد کا موقف
بچے کے والد نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ قانونی سرپرست ہونے کی وجہ سے رقم کو اپنی صوابدید سے استعمال کرنے کا حق دار ہوں، اور مقدمہ دراصل والدہ کی اکسانے پر دائر کیا گیا ہے۔
عدالت کا فیصلہ
تاہم عدالت نے فیصلہ دیا کہ تحفے کے طور پر ملنے والی رقم قانونی طور پر شیاؤ ہوئی کی ذاتی ملکیت ہے اور اس کے والد نے اس حق کی خلاف ورزی کی ہے۔ عدالت نے حکم دیا کہ والد کو تمام رقم بمعہ سود واپس کرنا ہو گی، جو مجموعی طور پر 82 ہزار 750 یوآن (تقریباً 12 ہزار 60 امریکی ڈالرز) بنتی ہے۔








