متوازن پالیسی پر عمل پیرا ہیں، ایران نے پاکستان کے ردِعمل کو سراہا، تائید چین اور روس نے بھی کی: سینئر سیکیورٹی عہدیدار
پاکستان کی متوازن پالیسی
لاہور (طیبہ بخاری سے) پاکستان کے سینئر سیکیورٹی عہدیدار نے کہا ہے کہ ایران کے حوالے سے پاکستان متوازن پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ ایران نے پاکستان کے ردِعمل کو سراہا، تائید چین اور روس نے بھی کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بابر اعظم بی بی ایل کا ڈیبیو میچ یادگار نہ بنا سکے
ایران کی صورتحال پر پاکستانی موقف
ایران کی صورتحال پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر سیکیورٹی عہدیدار نے کہا کہ پاکستان نے ایران کی جانب سے برادر عرب ممالک کو نشانہ بنانے پر اپنے تحفظات واضح طور پر بیان کیے ہیں۔ پاکستان ایک مستحکم اور پرامن ایران کا خواہاں ہے۔ ایران نے پاکستان کے ردِعمل کو سراہا ہے، جس کی تائید چین اور روس نے بھی کی۔ یہ تاثر کہ پاکستان اگلا ہدف ہو سکتا ہے، بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہے۔ پاکستان اور ایران کو عسکری، خارجہ پالیسی اور داخلی حالات کے اعتبار سے یکساں قرار نہیں دیا جا سکتا۔ پاکستان مضبوط خارجہ پالیسی پر کاربند ہے اور متعدد عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے۔ ہمارا مؤقف عوامِ پاکستان کے استحکام اور خوشحالی کے لیے تعمیری روابط پر مبنی ہے۔ پاکستان کے عالمی تعلقات باہمی احترام اور اعتماد کی بنیاد پر قائم ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: صاحب، میں نے آپ کے کہنے پر شاہد لُنڈ کو مار دیا ہے!
پاکستان کی خودمختاری کی حفاظت
سینئر سیکیورٹی عہدیدار کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، جس کا مظاہرہ حالیہ معرکۂ حق اور دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ میں کیا جا چکا ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج اپنی بہادر اور ثابت قدم قوم کی حمایت سے دشمن کے ہر مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی۔ اگر کسی کو اس حوالے سے کوئی شبہ ہے تو وہ زمینی حقائق دیکھ سکتا ہے۔ انتشار پھیلانے والے عناصر کی جانب سے پیدا کی جانے والی غلط فہمیوں اور پروپیگنڈے کی پاکستان سخت مذمت کرتا ہے۔ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنی دہائیوں پر محیط برادرانہ اور اسٹریٹجک تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس (ISF) سے متعلق تفصیلات ابھی طے ہونا باقی ہیں۔ پاکستان کی شرکت کا فیصلہ حکومتِ پاکستان مکمل جانچ پڑتال کے بعد کرے گی۔
ملک گیر احتجاج کا جائزہ
ملک گیر احتجاج کے حوالے سے سینئر سیکیورٹی عہدیدار کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ایران میں پیش آنے والے افسوسناک واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے، تاہم احتجاج کی آڑ میں تشدد کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ ملک میں افراتفری پھیلانے کی کسی بھی کوشش سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا، اور چند شرپسند عناصر کو پرامن مظاہرین کی ساکھ خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔








