ایران کے بعد پاکستان اگلا ہدف ہو سکتا ہے، یہ تاثر بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہے، سینئر سیکیورٹی عہدیدار کی میڈیا سے گفتگو
پاکستان کی موقف: مستحکم ایران کی خواہش
راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینئر سیکیورٹی عہدیدار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک مستحکم اور پُرامن ایران کا خواہاں ہے، یہ تاثر کہ ایران کے بعد پاکستان اگلا ہدف ہو سکتا ہے دراصل بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہے، پاکستان اور ایران کو عسکری، خارجہ پالیسی اور داخلی حالات کے اعتبار سے یکساں قرار نہیں دیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: مریم نواز نے 6 لاکھ کسانوں کے لیے ویٹ سپورٹ پرائس کے اجرا کی منظوری دے دی
پاکستان کی متوازن پالیسی
تفصیلات کے مطابق سیکیورٹی عہدیدار کا کہنا تھا کہ ایران کے حوالے سے پاکستان متوازن پالیسی پر عمل پیرا ہے، ایران نے پاکستان کے ردِعمل کو سراہا ہے، جس کی تائید چین اور روس نے بھی کی، پاکستان نے ایران کی جانب سے برادر عرب ممالک کو نشانہ بنانے پر اپنے تحفظات واضح طور پر بیان کیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سینئر ٹی وی اداکارہ عائشہ خان انتقال کر گئیں
پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک مستحکم اور پُرامن ایران کا خواہاں ہے، یہ تاثر کہ پاکستان اگلا ہدف ہو سکتا ہے، بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہے۔ پاکستان مضبوط خارجہ پالیسی پر کاربند ہے اور متعدد عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے۔ ہمارا مؤقف عوامِ پاکستان کے استحکام اور خوشحالی کے لیے تعمیری روابط پر مبنی ہے، پاکستان کے عالمی تعلقات باہمی احترام اور اعتماد کی بنیاد پر قائم ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: تاریخی سنگِ میل، پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری کی شاہکار تصنیف دارالمنہاج سعودی عرب سے شائع ہوگئی
دفاعی صلاحیت
Sیکیورٹی عہدیدار نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، جس کا مظاہرہ حالیہ معرکۂ حق اور دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ میں کیا جا چکا ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج اپنی بہادر اور ثابت قدم قوم کی حمایت سے دشمن کے ہر مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی۔ اگر کسی کو اس حوالے سے کوئی شبہ ہے تو وہ زمینی حقائق دیکھ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کے احتجاج سے نمٹنے کے لیے اسلام آباد پولیس کے کتنے پیسے خرچ ہوئے؟
انتشار کے عناصر کی مذمت
انتشار پھیلانے والے عناصر کی جانب سے پیدا کی جانے والی غلط فہمیوں اور پروپیگنڈے کی پاکستان سخت مذمت کرتا ہے۔ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنی دہائیوں پر محیط برادرانہ اور اسٹریٹجک تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس کی شرکت
انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس (ISF) سے متعلق تفصیلات ابھی طے ہونا باقی ہیں۔ پاکستان کی شرکت کا فیصلہ حکومتِ پاکستان مکمل جانچ پڑتال کے بعد کرے گی۔








