بانی پی ٹی آئی عمران خان کی 6 اور بشریٰ بی بی کی ایک درخواست ضمانت قبل از گرفتاری پر تحریری فیصلہ جاری
اسلام آباد میں ضمانت کا فیصلہ
بانی پی ٹی آئی عمران خان کی 6 اور بشریٰ بی بی کی ایک درخواست ضمانت قبل از گرفتاری پر تحریری فیصلے جاری کر دیئے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: برسلز میں سہیل وڑائچ موجود تھے، انہوں نے اپنے تجسس پر کالم لکھا لیکن وی لاگ اور پوڈ کاسٹ سے بات بڑھائی گئی، راناثنااللہ
فیصلے کی تفصیلات
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے یہ تحریری احکامات جاری کیے، فیصلے کے مطابق توشہ خانہ میں مبینہ جعلی رسیدوں کے مقدمے میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی ضمانت منظور کر لی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نوازشریف کے توشہ خانہ سے حاصل کئے گئے تحائف پر عمران اسماعیل اور عامر الیاس رانا میں بحث ہو گئی
استغاثہ کی ناکامی
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ استغاثہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا۔ استغاثہ کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ رسید سوشل میڈیا پر دیکھی گئی، تاہم آج تک اس رسید کا فرانزک معائنہ نہیں کرایا گیا۔ یہ ثابت نہیں کیا جا سکا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی نے مبینہ جعلی رسیدیں الیکشن کمیشن یا کابینہ ڈویژن میں جمع کرائیں۔
یہ بھی پڑھیں: جناح ہاؤس حملہ کیس میں پی ٹی آئی کے 254 رہنماؤں اور کارکنوں پر فرد جرم عائد
اعلیٰ شخصیات کے خلاف الزامات
اسی طرح اعلیٰ شخصیات کے خلاف الزام تراشی کے مقدمے میں بھی بانی پی ٹی آئی کی ضمانت منظور کی گئی، کیونکہ استغاثہ ان کی افواجِ پاکستان کے خلاف تقریر یا کسی قسم کا ثبوت عدالت میں پیش نہ کر سکا۔ ایسا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا جس سے یہ ثابت ہو کہ بانی پی ٹی آئی نے بغاوت پر اکسایا، 9 مئی کے احتجاج اور اقدامِ قتل کے مقدمات میں بھی استغاثہ شواہد پیش نہ کر سکا۔
یہ بھی پڑھیں: مارک کارنی کی لبرل پارٹی کینیڈا کے انتخابات میں کامیاب، حکومت بنانے کا امکان
احتجاجی مقدمات کی صورت حال
احتجاجی مقدمات میں بانی پی ٹی آئی کی جائے وقوعہ پر موجودگی ثابت نہیں ہو سکی اور نہ ہی یہ ثابت کیا جا سکا کہ احتجاج ان کی ایما پر ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں آج سے بارشوں کی پیشگوئی
مچلکوں کے عوض ضمانت
بعد ازاں عدالت نے 50، 50 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض بانی پی ٹی آئی کی ضمانتیں منظور کر لیں۔
دیگر مقدمات
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی کے خلاف تھانہ کوہسار، سیکرٹریٹ اور کراچی سمیت دیگر مقامات پر 6 مقدمات درج ہیں۔








