ایران سے جنگ کے لیے امریکی فوجیوں کو مذہبی حوالے دینے کا انکشاف
جنگ کا مذہبی تناظر
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی فوج کے مختلف یونٹس سے یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ کو بعض کمانڈرز مذہبی تناظر میں پیش کر رہے ہیں اور اسے خدا کے منصوبے کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔ ایک غیر کمیشنڈ افسر نے شکایت درج کراتے ہوئے بتایا کہ بریفنگ کے دوران ان کے کمانڈر نے کہا کہ ایران کی جنگ آخری زمانے کی پیش گوئیوں (Armageddon) سے جڑی ہوئی ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو حضرت عیسیٰ کی واپسی کی راہ ہموار کرنے کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اداکار نعمان مسعود نے خواتین کو کامیاب شادی کا راز بتا دیا
ملٹری ریلیجس فریڈم فاؤنڈیشن کی شکایات
صحافی جوناتھن لارسن کی خبر کے مطابق یہ شکایات ملٹری ریلیجس فریڈم فاؤنڈیشن کے پاس جمع کرائی گئیں، جو امریکی فوج میں مذہبی جانبداری کے خلاف کام کرنے والی تنظیم ہے۔ تنظیم کے مطابق ہفتے کی صبح سے پیر کی رات تک 110 سے زائد شکایات موصول ہوئیں، جو فوج کی تمام شاخوں سے تعلق رکھنے والے اہلکاروں کی جانب سے بھیجی گئیں۔ یہ شکایات کم از کم 30 فوجی تنصیبات اور 40 سے زائد یونٹس سے موصول ہوئیں۔ شکایت کنندگان کی شناخت خفیہ رکھی جا رہی ہے تاکہ انہیں محکمہ دفاع کی جانب سے کسی ممکنہ کارروائی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ پینٹاگون نے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور کینال پر فلوٹنگ ریسٹورنٹس کی تعمیر لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج
شکایت کنندگان کی شناخت
ایک شکایت کنندہ نے، جو ایران کے جنگی زون سے باہر لیکن فوری تعیناتی کی حالت میں موجود یونٹ سے وابستہ ہے، بتایا کہ وہ خود مسیحی ہے اور اس نے 15 فوجیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے شکایت بھیجی، جن میں اکثریت مسیحیوں کی تھی جبکہ ایک مسلمان اور ایک یہودی بھی شامل تھا۔ اس کے مطابق کمانڈر نے انہیں ہدایت دی کہ وہ اپنے ماتحت اہلکاروں کو بتائیں کہ یہ سب خدا کے الہامی منصوبے کا حصہ ہے اور مکاشفہ کی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے قیامت اور حضرت عیسیٰ کی واپسی کا ذکر کیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا لاہور کے بعد کراچی و سندھ کے دورے کا اعلان
تنظیم کی تشویش
تنظیم کے صدر مائیکی وائن اسٹین، جو امریکی فضائیہ کے سابق افسر رہ چکے ہیں، کا کہنا ہے کہ ایران پر حملوں کے بعد سے انہیں بڑی تعداد میں ایسی شکایات موصول ہو رہی ہیں جن میں کمانڈ چین کی جانب سے اس جنگ کو بائبلی طور پر جائز قرار دینے کی بات کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق بعض افسران اس جنگ کو عیسائی انتہاپسند نظریات کے مطابق آخری زمانے کی نشانی کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہماری کوشش ہے کہ عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ایک مؤثر رابطے کا کردار ادا کیا جائے، محمود مولوی کا شاہ محمود قریشی سے ملاقات کے بعد بیان
مذہبی عقائد کی ممانعت
وائن اسٹین نے امریکی آئین اور فوجی ضابطہ قانون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری فوجی ہدایات یا بریفنگز میں ذاتی مذہبی عقائد شامل کرنا ممنوع ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر کوئی فوجی افسر اپنے ماتحت اہلکاروں پر مذہبی نظریات مسلط کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیکس کٹوتی پر صارف مشتعل، بینک مینجر کی پٹائی کردی
وزیر دفاع کی سرگرمیاں
دوسری جانب وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے پینٹاگون میں ماہانہ دعائیہ اجتماعات کا آغاز کیا ہے اور وہ وائٹ ہاؤس میں ہونے والے ہفتہ وار بائبل مطالعہ میں بھی شرکت کرتے رہے ہیں۔ اس مطالعے کی قیادت پادری رالف ڈرولنگر کرتے ہیں، جو اسرائیل کی حمایت کو مذہبی فریضہ قرار دیتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیل کے ایران پر گزشتہ سال کے حملے کے بعد بھی اسرائیل کی حمایت میں خصوصی مذہبی دروس دیے گئے تھے جو کابینہ ارکان اور کانگریس کے اراکین تک بھیجے گئے۔
عیسائی قوم پرستی کا مسئلہ
امریکی فوج میں عیسائی قوم پرستی کے رجحانات پر پہلے بھی بحث ہوتی رہی ہے۔ 11 ستمبر کے حملوں کے بعد سابق صدر جارج بش نے دہشت گردی کے خلاف مہم کو صلیبی جنگ قرار دیا تھا، جس پر عالمی سطح پر تنقید ہوئی اور بعد ازاں یہ اصطلاح ترک کر دی گئی۔ اسی طرح 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد بھی ایسی شکایات سامنے آئیں کہ بعض فوجی افسران نے مشرق وسطیٰ کی جنگوں کو مذہبی پیش گوئیوں سے جوڑا۔








