ایران کے پاس نہ بحریہ رہی، نہ فضائیہ، نہ فضائی نگرانی کا نظام اور نہ ہی ریڈار، ٹرمپ
ٹرمپ کی ایرانی فوج کی تباہی کا دعویٰ
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوجی آپریشن کے بعد ایران کے پاس نہ بحریہ رہی، نہ فضائیہ، نہ فضائی نگرانی کا نظام اور نہ ہی ریڈار باقی رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یو این ایف پی اے کے کنٹری ریپریزنٹیٹو کا ویمن پروٹیکشن سینٹر لاہور کا دورہ، تفصیلی بریفنگ
ٹرمپ کا میڈیا سے خطاب
سی این این کے مطابق، ٹرمپ نے منگل کے روز ایران کے ساتھ جاری جنگ پر کھلے عام صحافیوں کے سوالات کے جواب دیے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ تنازع شروع ہونے کے بعد انہوں نے کسی عوامی مقام پر میڈیا سے گفتگو کی۔ وہ وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں جرمن چانسلر فریڈرک مرز کے ہمراہ بیٹھے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کے دو آپریشنز کے، 7 خوارج ہلاک
اسرائیل کے حملے کی روایات
ٹرمپ نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے منصوبوں نے انہیں ہفتے کے روز کارروائی پر مجبور کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ممکن ہے انہوں نے اسرائیل کو اقدام پر آمادہ کیا ہو، نہ کہ اسرائیل نے انہیں۔ ان کے بقول ایران میں “تقریباً سب کچھ تباہ کر دیا گیا ہے”، اور امریکی فوجی آپریشن کے بعد ایران کے پاس “نہ بحریہ رہی، نہ فضائیہ، نہ فضائی نگرانی کا نظام اور نہ ہی ریڈار”۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کی ڈیڈ لائن میں چند گھنٹے باقی، شہباز شریف کی 2 ہفتوں کی مہلت کی اپیل
انخلا کا منصوبہ نہ ہونا
صدر ٹرمپ نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ہفتے کے روز ایران پر حملوں سے قبل مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی شہریوں کے انخلا کا کوئی باقاعدہ منصوبہ موجود نہیں تھا۔ ان کا مؤقف تھا کہ فوجی کارروائی اتنی تیزی سے عمل میں آئی کہ پیشگی انخلا کی تیاری ممکن نہیں تھی۔
یہ بھی پڑھیں: یوٹیوبرز کیلئے بڑی خوشخبری، انتہائی اہم فیچر متعارف
جوابی کارروائی پر حیرت
انہوں نے کہا کہ انہیں یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ ایران نے جوابی کارروائی میں اپنے پڑوسی ممالک کو نشانہ بنایا۔ ٹرمپ کے مطابق تہران کے حملوں کا نشانہ بننے والے ممالک بھی غالباً اس صورتحال پر حیران ہوئے ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پیپلزپارٹی کا وزیراعظم آزاد کشمیر چودھری انوار الحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر اتفاق،مشاورت مکمل کر لی گئی
امریکی اسلحے کا ذخیرہ
صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کے پاس بعض اقسام کے اسلحے اور گولہ بارود کا ذخیرہ عملاً لامحدود ہے۔ انہوں نے پولیٹیکو سے گفتگو میں بتایا کہ دفاعی سازوسامان تیار کرنے والی کمپنیاں ہنگامی اختیارات کے تحت کام کر رہی ہیں تاکہ اسلحے کی تیاری کے عمل کو تیز کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی میڈیا کے بغیر ثبوت الزامات مضحکہ خیز، پاکستان کے خلاف میڈیا مہم چلائی جا رہی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر
برطانیہ کے ساتھ کشیدگی
ٹرمپ نے برطانیہ کو “بہت، بہت غیر تعاون کرنے والا” قرار دیا اور چاگوس جزائر کی خودمختاری ترک کرنے کے فیصلے پر ایک بار پھر اپنے قریبی اتحادی پر تنقید دہرائی۔ یہ جزائر ایک مشترکہ فوجی اڈے کی میزبانی کرتے ہیں اور اسی معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی پائی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جناح ہاؤس حملے میں غفلت برتنے پر فوج کے 3 اعلی افسران کو بغیر پنشن و مراعات ریٹائر کیا گیا، اٹارنی جنرل نے تفصیلات بتا دیں۔
ایران کے اندر ممکنہ احتجاج
ایران کے اندر ممکنہ احتجاج کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ وہ فی الحال ایرانی عوام کو سڑکوں پر نکلتے نہیں دیکھنا چاہتے کیونکہ وہاں صورتحال انتہائی خطرناک ہے اور “بہت سے بم گرائے جا رہے ہیں”۔
خامنہ ای کے سخت گیر جانشین کا خدشہ
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے لیے بدترین صورتحال یہ ہو سکتی ہے کہ اگر کوئی ایسا شخص اقتدار سنبھال لے جو سابق رہنما جتنا ہی سخت گیر ہو۔ ان کا اشارہ ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی طرف تھا، جن کے بارے میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ اس ہفتے کے اختتام پر مارے گئے۔








