وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں اور نمائندگان کے اجلاس کا اعلامیہ جاری
اجلاس کا اعلامیہ
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں اور نمائندگان کے اجلاس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: جب انصاف کا معاملہ ہو تو میرا ترازو صرف حق دار کے لیے جھکتا ہے، جواب اللہ کو دینا ہے اور وہیں کی جواب دہی سخت ہے، یہاں تو صرف اپنا مفاد ہے۔
اجلاس کی تفصیلات
اعلامیے کے مطابق اجلاس کو پاکستان افغانستان صورتحال، ایران، مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطے میں کشیدگی کے حوالے سے اِن کیمرہ بریفنگ دی گئی۔
شرکاء کو پاکستان کی سفارتی کوششوں پر بھی تفصیلی بریفنگ فراہم کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے چیئرمین پی ٹی آئی اور بیرسٹر سیف متحرک
پاکستان کی خارجہ پالیسی
دفترِ خارجہ حکام نے ایران، اسرائیل تنازع کے بعد ملکی خارجہ پالیسی سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی پاکستان کی اولین ترجیح ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی ٹوئنٹی سیریز کے دوسرے میچ میں جنوبی افریقا نے بھارت کو 51 رنز سے ہرا دیا
سیاسی جماعتوں کا موقف
اجلاس میں شریک سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں نے کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور موجودہ حالات میں ملی اتحاد، اتفاق اور یگانگت کی ضرورت پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ریلمی C75x نے دل جیت لیے
سفارتی کاوشوں کا اعتراف
اعلامیے کے مطابق شرکاء نے خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو سراہا اور انہیں مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے مختلف تجاویز بھی پیش کیں.
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں ژالہ باری کے بعد گاڑیوں کی ونڈ اسکرین اور شیشوں کی قیمتوں میں اضافہ، شہری نئی پریشانی میں مبتلا
وزیرِ اعظم کی کاوشیں
اجلاس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے مشرق وسطیٰ کی قیادت سے رابطوں پر اعتماد میں لیا۔
دہشت گردی کے خلاف عزم
دفترِ خارجہ حکام نے بریفنگ میں شرکاء کو ایران کے خلیجی اور عرب ممالک پر حملوں کے بعد پاکستان کی سفارتی کوششوں اور مغربی سرحد پر افغان طالبان رجیم کے خلاف جاری آپریشن سے متعلق آگاہ کیا ۔
اجلاس میں ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے مضبوط عزم کا اعادہ کیا گیا۔
شرکاء نے قومی مفاد میں سیاسی قیادت کو اعتماد میں لینے کے اقدام پر وزیرِ اعظم کو خراجِ تحسین بھی پیش کیا۔








