مقبرہ جہانگیر کو براہ راست روڈ سے منسلک کرنے کے لیے پل بنانے کا فیصلہ، والڈ سٹی سے بجلی اور دیگر تاروں کو ہٹانے کے لیے فوری اقدامات کا حکم
لاہور میں خصوصی اجلاس
لاہور( ڈیلی پاکستان آن لائن ) پاکستان مسلم لیگ(ن)کے صدر محمد نوازشریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت لاہور ہیرٹیج ایریازریوائیول (لہر) سے متعلق خصوصی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں قدیمی اور تاریخی عمارتوں کی بحالی کے پراجیکٹ پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: 1 مئی کے کیسز: یاسمین راشد کا سزا معطلی کے لئے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع
احتجاجی جلسوں پر پابندی
اجلاس میں لاہور کے مال روڈ پر ہر قسم کے احتجاجی جلسوں پر پابندی کا اصولی فیصلہ بھی کیا گیا۔ اس موقع پر شاہی قلعہ کے تمام حصوں کو مکمل طور پر قدیمی حالت میں بحال کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ 40 ایکڑ پر محیط شاہی قلعہ میں 26 یادگاروں کو اصل صورت میں بحال کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کی مقبوضہ کشمیر میں سیاحوں پر حملے کی مذمت
تاریخی عمارتوں کی بحالی
اجلاس میں تاریخی عمارتوں کی بحالی اور دیکھ بھال کے لیے ٹورازم ڈیپارٹمنٹ میں نیاونگ بنانے کی تجویز کا جائزہ لیا گیا۔ کھڑک سنگھ حویلی اور پرانے سرونٹ کوارٹرز کو بحال کرکے ٹورازم کے فروغ کے لیے ہوٹل بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ مزید برآں، مقبرۂ جہانگیر کو براہ راست روڈ سے منسلک کرنے کے لیے پل بنانے کی منظوری دی گئی، جس کے لیے ڈیڈ لائن بھی مقرر کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی ایئر پورٹ پر سعودی عرب جانے کی کوشش میں خاتون گرفتار، یہ کون تھی ؟ پتا چل گیا
والڈ سٹی کی بحالی
وزیراعلیٰ مریم نواز نے پورے والڈ سٹی سے بجلی اور دیگر تاروں کو ہٹانے کے لیے فوری اقدامات کا حکم دیا۔ رنگ محل سکول کو قدیمی شکل میں بحال کرنے کے پراجیکٹ کا جائزہ لیا گیا، اور مقبرہ نورجہاں اور آصف جاں کی تعمیر و بحالی کے پراجیکٹ پر بھی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: بین الاقوامی سمندری تنظیم آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے مذاکرات اگلے ہفتے شروع ہونے کے لیے پرامید
دیگر بحالی منصوبے
اجلاس میں ناصر باغ انڈرگراؤنڈ پارکنگ، ریلوے سٹیشن چوک اور مصری شاہ کی بحالی کے پراجیکٹ پر رپورٹ پیش کی گئی۔ مزید برآں، شاہ عالم مارکیٹ تا رنگ محل چوک عمارتوں کے بیرونی حصوں کے یکساں قدیمی ڈیزائن کی بحالی کے پراجیکٹ کا بھی جائزہ لیا گیا۔
روایتی اور تاریخی حیثیت کی بحالی
اجلاس میں پاک ٹی ہاؤس کی روایتی اور تاریخی حیثیت بحال کرنے کے لیے خوبصورت اور دلکش بیرونی ڈیزائن کی منظوری دی گئی۔ اخر میں، منٹو پارک میں کرکٹ گراؤنڈ اور اکھاڑے کی بحالی کی تجویز کا بھی جائزہ لیا گیا۔







