تمہارا میرا کتاب کا بھی تعلق ہے اسے خراب مت کرو
کتاب کا تعارف
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 457
کتاب کا تعلق؛
یہ بھی پڑھیں: بھارت، سڑک پر بیٹھ کر بھیک مانگنے والا گداگر کروڑ پتی نکلا، 3 گھر ، گاڑیوں اور رکشے کا مالک ہونے کا انکشاف
کمشنر کا رویہ
کمشنر کا مجھ سے رویہ عموماً اچھا ہی ہوتا تھا۔ کبھی غصہ بھی آتا تو یہی کہتے؛ "شہزاد! تمھارا اور میرا کتاب کا بھی تعلق ہے۔ اسے خراب مت کرو۔" کمشنر پڑھنے لکھنے کے شوقین تھے۔ میں نے انہیں اپنی کتاب "ریت سے روح" پیش نہیں کی تھی۔ ایک روز کہنے لگے؛ "یار! اپنی کتاب تو مجھے دو۔" میں نے کہا؛ "سر! اس میں (ایک سیاستدان کے خلاف) ایک پیرا گراف ہے۔ آپ بھی کشمیری ہیں اور ان کے قریب بھی۔ اس لئے ڈرتا ہوں۔" کہنے لگے؛ "چھوڑو یار! تم نے کیسی بات کی ہے۔ تم بھی مجھے عزیز ہو۔ جو تم نے لکھا تمھارا نقطہ نظر ہے۔ کتاب دو۔" اگلے روز انہیں کتاب پیش کی۔ کچھ دنوں بعد کہنے لگے؛ "کتاب میں بہت روانی ہے۔ پڑھتے لگا کہ پڑھنے والا بھی لکھنے والے کے ساتھ ہی سفر کر رہا ہے۔ تم نے جس کے بارے جو بھی لکھا، ٹھیک ہی لکھا ہے۔" اس کے بعد سے وہ میرے ساتھ اور شفقت سے پیش آنے لگے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ایران سرینڈر نہیں کرے گا: ایرانی سپریم لیڈر
تاریخی عمارتوں کا ذکر
ایک روز مجھے کہنے لگے؛ "گوجرانوالہ تاریخی اعتبار سے بہت رچ علاقہ ہے۔ رنجیت سنگھ کی حکومت کا یہ بہت اہم شہر تھا۔ اُس کے دور اور اس سے قبل کے دور کی بہت سی تاریخی عمارتیں یہاں بکھیری پڑی ہیں اس انتظار میں ہیں کہ ان کے ماضی کو کھنگالا جائے اور لوگوں کو بتایا جائے۔ میری خواہش ہے کہ تم ان عمارات کے پس منظر پر بھی کچھ تحریر کرو۔" خیال بہت اچھا تھا، خواہش تو میری بھی تھی کہ میں ان عمارات اور گوجرانوالہ کی تاریخ لکھوں۔ لکھنا شروع بھی کیا تھا، کچھ معلومات بھی اکٹھی کیں، کچھ عمارات دیکھی بھی تھیں اور کچھ تصاویر بھی اکٹھی کیں لیکن مزید کام کا وقت نہ مل سکا کہ سرکاری مصروفیات ہی اتنی تھیں۔ یوں کمشنر کی خواہش اور میری تمنا ادھوری رہ گئی۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی نے آخری ملاقات میں مجھے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے اور یہ لوگ ایسا کام کر سکتے ہیں، ڈاکٹر عظمیٰ خان
کمشنر کی ڈکشنری
کمشنر کے پاس اقبالیات کی ایک نایاب قسم کی ڈکشنری بھی تھی جس میں ان الفاظ کا ترجمہ بیان ہوا تھا جو ان کے فارسی کلام میں استعمال ہوئے تھے۔ یہ ان کا ذوق تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بھارت جنگ بندی معاہدے میں مارکو روبیو اور جے ڈی وینس نے واضح فرق ڈالا: امریکہ
خالد وٹو کا قصہ
ایک اور واقعہ بھی یاد آ گیا ہے۔ خالد نذیر ایڈیشنل کمشنر(جنرل) تھے۔ رانا منظور احمد اے سی(آر) (یہ رینکر تھے۔ امتیاز چیمہ کے دوست تھے۔ میری اور ان کی جلد یاری ہو گئی تھی۔) جبکہ ظہیر احمد اے سی(جی) (پی سی ایس نوجوان افسر شاہدرہ لاہور کا رہائشی تھا۔ اس سے بھی اچھی یاری ہو گئی تھی۔ خالد وٹو سی ایس پی افسر اور اچھے انسان تھے جلد ہی ان سے بھی دوستی ہو گئی۔ ہم روز 11 بجے چائے اکٹھے پیتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں انسانیت سوز واقعہ، پڑوس میں پانی لینے گئی بچی کے ساتھ زیادتی، شور مچانے پر فرار
خالد کی عادتیں
خالد وٹو میں ایک عادت تھی کہ وہ جو بھی فائل کمشنر کے پاس لے کر جاتے بغیر تیاری کے جاتے۔ انہیں بالکل علم نہیں ہوتا تھا کہ فائل میں لکھا کیا ہے۔ کمشنر سوال کرتے تو جواب ہوتا "میں چیک کرکے بتاتا ہوں سر۔" کمشنر اس بات سے چڑھ کھاتے تھے۔ یہ بھی ممکن تھا کہ خالد انہیں چڑانے کے لئے ہی ایسا کرتا ہو۔ دوسرا وہ کبھی نوٹ بک یا ڈائری ساتھ نہ رکھتے بلکہ انہیں کوئی بھی بات نوٹ کرنی ہو تو موبائل فون استعمال کرتے تھے۔ کمشنر کو یہ بھی اچھا نہ لگتا تھا۔ خیر وقت گزر رہا تھا، کمشنر کی رائے خالد کے حوالے سے دن بدن خراب ہوتی جا رہی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: میں نے بانی پی ٹی آئی کی صحت پر کوئی بیان نہیں دیا، سلمان صفدر
2014ء کا سیلاب
2014ء کا سیلاب آیا۔ ہر طرف پانی ہی پانی تھا۔ دریا اور ندی نالے بپھر گئے تھے۔ گوجرانوالہ، حافظ آباد، گجرات اور سیالکوٹ کے اضلاع شدید متاثر ہوئے۔ روزانہ شام چیف سیکرٹری پنجاب (خضر حیات گوندل، چیف سیکرٹری پنجاب، میرے سیکرٹری بلدیات بھی رہے اور میں نے کچھ عرصہ ان کے ماتحت کام کیا تھا۔ جہاں سلمان میرا استاد تھا۔ (بھلے مانس، سمجھ دار اور دلدار انسان۔) کو سیلاب کے نقصانات اور صورت حال کے بارے رپورٹ بھیجی جاتی تھی جس میں ڈویثرن کے سارے محکوموں کی input شامل ہوتی اور یہ ساری انفورمیشن خالد وٹو consolidated فارم میں کمشنر کو بھجواتے تھے۔ کئی بار خالد نامکمل سی رپورٹ بھی انہیں بھجوا دیتا۔ (جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








