پاسداران انقلاب نے ڈونلڈ ٹرمپ کے قتل کی سازش میں زبردستی شامل کیا: پاکستانی شہری آصف مرچنٹ کا جیوری کو بیان
ڈونلڈ ٹرمپ کے قتل کی سازش: پاکستانی شہری کی گرفتاری
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی سازش کے الزام میں گرفتار پاکستانی شہری نے جیوری کو بتایا کہ اس نے ایران کی پاسداران انقلاب کے ساتھ یہ منصوبہ مرضی سے نہیں بنایا۔
یہ بھی پڑھیں: یمن میں امریکی حملے میں اہم شخصیت ہلاک
ملزم کی تفصیلات
رائٹرز کے مطابق امریکی محکمہ انصاف کے مطابق ملزم آصف مرچنٹ نے امریکا میں افراد کو بھرتی کرنے کی کوشش کی تاکہ ٹرمپ اور دیگر امریکی سیاست دانوں کو نشانہ بنایا جا سکے۔ یہ مبینہ منصوبہ ایران کے اعلیٰ فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بدلے کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ نادیہ خان کا ائیر وائس مارشل اورنگزیب سے کیا رشتہ ہے؟ اداکارہ نے پرانی تصویر شیئر کر دی
آصف مرچنٹ کا مؤقف
عدالتی کارروائی کے دوران آصف مرچنٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ یہ کام اپنی مرضی سے نہیں کرنا چاہتے تھے بلکہ تہران میں موجود اپنے خاندان کے تحفظ کے لیے اس میں شامل ہوئے۔ تاہم استغاثہ نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ زبردستی یا دباؤ کے شواہد موجود نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا؟
قتل کے ہدف
میڈیا رپورٹس کے مطابق مرچنٹ نے عدالت کو بتایا کہ انہیں کسی ایک مخصوص شخص کو قتل کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا، لیکن ایران میں ان کے ہینڈلر نے گفتگو کے دوران تین شخصیات کے نام لیے تھے۔ ان میں ڈونلڈ ٹرمپ کے علاوہ اُس وقت کے صدر جوبائیڈن اور ریپبلیکن رہنما نکی ہیلی شامل تھیں۔
قانونی ردعمل اور ایران کی تردید
مرچنٹ کے وکلا نے اس معاملے پر فوری ردعمل نہیں دیا جبکہ وائٹ ہاؤس نے بھی اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ ایران نے اس سے قبل ان الزامات کی تردید کی ہے کہ اس نے ٹرمپ یا دیگر امریکی عہدیداروں کو نشانہ بنانے کی کوئی سازش کی تھی۔








