بیواؤں اور یتیم بچوں کے لیے ’وزیراعلیٰ پنجاب رحمت کارڈ‘ متعارف کرانے کا فیصلہ
پنجاب میں رحمت کارڈ کا اجراء
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان میں پہلی بار وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بیواؤں اور ان کے یتیم بچوں کی سرکاری کفالت کے لیے ایک شفاف ڈیجیٹل سسٹم تیار کر لیا ہے۔ نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق اس اقدام کے تحت پنجاب میں بیواؤں اور یتیم بچوں کے لیے 'وزیراعلیٰ پنجاب رحمت کارڈ' متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور بھارت دو نیوکلیئر طاقتوں میں کشیدگی، ویڈیو تجزیہ
مالی امداد کا اعلان
وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے بیواؤں اور ماں باپ کی شفقت سے محروم بچوں کے لیے 'رحمت کارڈ' کی منظوری دے دی ہے، اس پروگرام کے تحت مستحق خاندانوں کو ایک لاکھ روپے تک براہِ راست مالی امداد فراہم کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی کے پوڈکاسٹر علی قاسم نے ٹیمو کے ذریعے اپنے خواب کو حقیقت میں بدلا دیا
پہلے مرحلے کی تفصیلات
وزیر اعلیٰ پنجاب رحمت کارڈ پہلے مرحلے میں 50 ہزار سے زائد بے آسرا گھرانوں کی معاشی ڈھال بنے گا جبکہ اس منصوبے کا باقاعدہ آغاز عید کے فوراً بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: سابق انٹرنیشنل امپائر ظفر اقبال پاشا صدیقی انتقال کر گئے
معلوماتی ذرائع
اس پروگرام کے تحت بیوہ خواتین کو ایک لاکھ روپے اور یتیم بچوں کو 25،25 ہزار روپے فراہم کیے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ پنجاب رحمت کارڈ کے لیے موبائل ایپلی کیشن، ویب پورٹل، کال سینٹر اور آفس آف زکوٰۃ کے ذریعے رجوع کیا جا سکے گا۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلادیش: جہانگیر نگر یونیورسٹی طلباء یونین انتخابات میں اسلامی طلبہ شبہ بھاری اکثریت سے کامیاب ہو گئی
صوبائی معاون خصوصی کی بریفنگ
صوبائی معاون خصوصی برائے عشر و زکوٰۃ راشد نصر اللہ نے وزیراعلیٰ پنجاب رحمت کارڈ پراجیکٹ پر تفصیلی بریفنگ دی۔
یہ بھی پڑھیں: کروڑ لعل عیسن میں گھر میں آتشزدگی سے 3 بچے جاں بحق
وزیر اعلیٰ کی گفتگو
اس موقع پر وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب میں بیوہ اب محتاج نہیں بلکہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ بیوہ کو خیرات نہیں بلکہ باوقار حق ملے، پنجاب کے وسائل پر ہر فرد کا پورا حق ہے اور حقدار تک حق پہنچانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
خود روزگار کے مواقع
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب رحمت کارڈ کے ذریعے بیوہ خواتین کو خود روزگار کی راہ پر گامزن کرنا چاہتے ہیں۔ مریم نواز نے مزید کہا کہ پنجاب ایسا صوبہ ہے جہاں ہر فرد کا خیال رکھا جاتا ہے اور اس پروگرام کے ذریعے بیوہ خواتین اور بچے مالی خود مختاری کے ساتھ باوقار زندگی گزار سکیں گے۔








