مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، وزیراعظم کے ملائیشیا اور انڈونیشیا کے سربراہان سے ٹیلی فونک رابطہ، معاملات تعمیری بات چیت اور سفارت کاری سے حل کرنے پر زور دیا
پاکستان کے عالمی رہنماؤں سے رابطے
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور ایران پر اسرائیلی حملوں کے بعد کی صورت حال پر پاکستان کے عالمی رہنماؤں سے رابطے جاری ہیں۔ وزیر اعظم نے ملائیشیا اور انڈونیشیا کے سربراہان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: چاغی بلوچستان میں ڈرلنگ، سونے اور تانبے کے ذخائر دریافت
وزیر اعظم کا ملائیشیا کے ساتھ رابطہ
اعلامیے کے مطابق وزیراعظم محمد شہبازشریف اور ملائیشین ہم منصب داتو سری انور ابراہیم کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا۔ اس دوران شہباز شریف نے ایران کے خلاف اسرائیل کے حملوں اور برادر خلیجی ممالک کے خلاف حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون میں درج تمام ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھیں: لوگ الیکٹرک بسیں آنے پر عید کی طرح خوشی منا رہے ہیں، وزیر اعلیٰ مریم نواز
احتیاط اور مذاکرات کی ضرورت
دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ امن کی بحالی اور معاملات کو معمول پر لانا انتہائی ضروری ہے تاہم یہ تمام فریقین کی جانب سے زیادہ سے زیادہ تحمل کے استعمال سے ہی ممکن ہے۔ اس سلسلے میں دونوں رہنماؤں نے مل کر کام کرنے اور اپنے مؤقف کو مستقل بنیادوں پر مربوط کرنے پر اتفاق کیا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت اور پاکستان کشیدگی نہ بڑھائیں، مسئلے کا حل نکالیں: امریکا
افغانستان کی تازہ صورت حال
شہباز شریف نے وزیر اعظم انور ابراہیم کو افغانستان کے تناظر میں حالیہ پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے خاص طور پر خطے اور اس سے باہر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی کوششوں کا ذکر کیا۔ دونوں رہنمائوں نے باہمی دلچسپی کے امور پر قریبی روابط برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
یہ بھی پڑھیں: چیٹ جی پی ٹی کا بڑھتا استعمال، کیا گوگل ختم ہو جائے گا؟
انڈونیشیا کے ساتھ رابطہ
بعد ازاں وزیراعظم اور انڈونیشیا کے صدر ابوو سوبیانتو کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم نے ایران پر اسرائیل کے حملوں کے ساتھ ساتھ دوسرے برادر خلیجی ممالک پر ہونے والے افسوسناک حملوں کی شدید مذمت کی۔
یہ بھی پڑھیں: جنرل باجوہ کو آرمی چیف بنانے کی اطلاع عرفان صدیقی نے دی : آصف کرمانی
سفارتی رابطوں کی اہمیت
وزیر اعظم نے انڈونیشیا کے صدر کو بحران کے تناظر میں تمام خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کی سفارتی رابطے کی کوششوں سے آگاہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے تمام فریقین پر زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے اور تمام معاملات کو تعمیری بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا۔
قریبی رابطے کی یقین دہانی
ٹیلی فون کال کے دوران وزیراعظم نے صدر پرابوو سوبیانتو کو افغانستان کے حوالے سے حالیہ پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے آنے والے دنوں میں قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔








