افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف 56 سٹرائیکس کی جا چکی ہیں،سکیورٹی ذرائع

افغانستان میں سکیورٹی کی صورتحال

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف 56 سٹرائیکس کی جا چکی ہیں، جہاں سے دہشت گردی ہو رہی ہے انہی جگہوں کو ٹارگٹ کر رہے ہیں۔ دہشتگردی کے ہر واقعے کے پیچھے افغان رجیم شامل ہے، یہ جنگ افغان عوام کے خلاف نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کاش میں نے اپنا گھر بچوں کے نام نہ کیا ہوتا: ترنم ناز

دہشتگردوں کی حمایت اور آپریشنز

نجی ٹی وی کے مطابق سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے افغان فورسز براہ راست ٹی ٹی پی کی تشکیل کو سپورٹ فراہم کرتے ہیں۔ بارڈر پر جو پوسٹس دہشتگردوں کو تحفظ فراہم کرتی ہیں، وہی ٹارگٹ ہیں۔ پاکستان کا آپریشن افغان عوام کے خلاف نہیں بلکہ دہشتگردی کے خلاف جاری ہے۔ افغان رجیم دہشتگردوں کو سہولت اور تحفظ فراہم کر رہی ہے۔ دنیا کا واحد بارڈر جہاں افغان فورسز دہشتگردوں کی مدد کے لیے آتی ہیں، دہشتگردوں کی قیادت کو شہری علاقوں میں چھپایا جا رہا ہے۔ پاک فوج شہری آبادی کو نشانہ نہیں بناتی، صرف دہشتگردوں کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے۔ بگرام سمیت مختلف علاقوں میں دہشتگردوں کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ افغانستان دہشتگرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہ بنتا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 5 کاروباری گروپس نے بلوچستان میں اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کا اعلان کر دیا

حملوں کے شواہد

سکیورٹی ذرائع کے مطابق ترلائی مسجد، وانا کیڈٹ کالج اور باجوڑ حملوں میں افغان دہشتگردوں کے شواہد ملے ہیں۔ پاکستان نے ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تو افغان سائیڈ سے 55 مقامات پر حملے کیے گئے۔ پاکستانی فورسز 36 پوسٹوں پر قبضہ کر چکی ہیں، سرحدی علاقوں میں دہشتگردی کے ساتھ کرمنل نیٹ ورک بھی سرگرم ہے۔ پاکستان کسی ملک پر قبضہ نہیں کرنا چاہتا۔ ملک کے اندر روزانہ 200 سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری ہیں، بیرونی اور اندرونی دشمنوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ بنوں میں بچی پر تشدد کا واقعہ انتہا پسندی کی بدترین مثال ہے، بنوں واقعہ نہ اسلام سے تعلق رکھتا ہے نہ ہماری روایات سے۔ ایسے عناصر کے خلاف کھڑے ہونا ہی اصل جہاد ہے، قوم دہشتگردی کے خلاف یک زبان ہوکر کھڑی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: الیکشن کمیشن نے ضمنی انتخابات میں کامیاب امیدواروں کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا

سکیورٹی اقدامات اور ریاستی پالیسیاں

سکیورٹی ذرائع کے مطابق صوبائی ایپکس کمیٹی اہم سکیورٹی معاملات کا جائزہ لے رہی ہے۔ مدارس رجسٹریشن، ادویہ اصلاحات اور غیرقانونی افغان باشندوں کی واپسی پر عملدرآمد جاری ہے۔ دہشتگردی کے خاتمے کے لئے ریاستی اقدامات مزید سخت کئے جا رہے ہیں۔ افغانستان میں کس نوعیت کی حکومت ہو گی، اس کا فیصلہ افغان عوام کریں گے۔ موجودہ افغان نظام دہشتگردوں کو فروغ دے رہا ہے۔ اسلام کے نام پر دہشتگردی کو فروغ دینے کی مذمت کرتے ہیں۔ خیبر پختونخوا پولیس کو سیاسی دباؤ سے آزاد کیا جائے تو دہشتگردی ختم کر سکتی ہے۔ جب تک افغان حکومت واضح فیصلہ نہیں کرتی، آپریشن جاری رہے گا۔ افغان فورسز کی عسکری برتری کا تاثر ٹوٹتا جا رہا ہے۔ جو شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں، وہ افغانستان میں کریں، پاکستان میں اجازت نہیں۔

عزم اور قربانی

سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کے عوام اور قیادت فورسز کی قربانیوں پر افسردہ مگر پُرعزم ہیں۔ پاکستان کو میلی آنکھ سے دیکھنے کی قیمت کوئی ادا نہیں کر سکتا۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...