تقریباً 41 ہزار نیوزی لینڈ کے شہری 12 ماہ کے دوران آسٹریلیا منتقل ہوئے، بلوم برگ
نیوزی لینڈ سے آسٹریلیا کی جانب ہجرت میں اضافہ
ویلنگٹن(ڈیلی پاکستان آن لائن) نیوزی لینڈ سے آسٹریلیا کی جانب ہجرت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان معاشی اور سماجی حالات کے فرق کو اجاگر کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزارت داخلہ نے 53 ہزار پاکستانیوں کے پاسپورٹس بلاک کردیے
ہجرت کی مقدار
بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ 12 ماہ کے دوران تقریباً 41 ہزار نیوزی لینڈ کے شہری آسٹریلیا منتقل ہوئے، جو گزشتہ ایک دہائی میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ ماہرین کے مطابق زیادہ تنخواہوں، بہتر معاشی مواقع اور مضبوط کیریئر امکانات کی وجہ سے آسٹریلیا نیوزی لینڈ کے شہریوں کے لیے سب سے بڑی منزل بن چکا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان ویزا فری سفر اور تقریباً تین گھنٹے کی پرواز اس نقل مکانی کو مزید آسان بناتی ہے۔ تاہم تنخواہوں کے فرق اور معاشی مواقع کی عدم مساوات اس رجحان کو مزید تیز کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ اور بلوچستان میں گرمیوں کی چھٹیاں ختم، تعلیمی ادارے کھل گئے
داخلی سیاست پر اثرات
رپورٹ کے مطابق اس بڑھتی ہوئی ہجرت نے نیوزی لینڈ کی داخلی سیاست میں بھی اہم مسئلہ کی شکل اختیار کر لی ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، رہائشی اخراجات اور محدود معاشی مواقع لوگوں کو بیرونِ ملک جانے پر مجبور کر رہے ہیں۔
مستقبل کے چیلنجز
ماہرین کے مطابق اگر یہ رجحان اسی طرح جاری رہا تو نیوزی لینڈ کو افرادی قوت کے اخراج اور معاشی دباؤ جیسے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔








