پاکستان اور ازبکستان اقتصادی شراکت داری میں نئے راستے کھولنے جا رہے ہیں: ہارون اختر
نئے اقتصادی راستے
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور ازبکستان اقتصادی شراکت داری میں نئے راستے کھولنے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اگر جیل سے باہر ہوتا تو سیلاب زدگان کے لیے ضرور ٹیلی تھون اور فنڈ ریزنگ کرتا، عمران خان
اجلاس کی تفصیلات
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کی زیر صدارت پاکستان اور ازبکستان کے درمیان دوطرفہ تجارت کے فروغ کے لیے قائم مشترکہ ورکنگ گروپ کا دوسرا اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری تجارت جواد پال سمیت مختلف وفاقی وزارتوں اور ایس آئی ایف سی کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے فروغ، تجارتی راستوں، مختلف شعبوں میں تعاون اور پہلے سے طے شدہ مفاہمتی یادداشتوں پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی صدر نے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے امریکا کے ساتھ مذاکرات کی اجازت دے دی
مستقبل کی منصوبہ بندی
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہارون اختر خان نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے وژن کے تحت پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تجارت میں اضافے کے لیے 2026 سے 2030 تک کا 5 سالہ روڈ میپ پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ازبکستان کے ساتھ طے شدہ پروٹوکولز پر عملدرآمد بھی اسی روڈ میپ کے ذریعے یقینی بنایا جائے گا۔ مختلف شعبوں کے لیے مخصوص حکمت عملی تیار کرنے کی غرض سے 8 ورکنگ گروپس قائم کیے گئے ہیں، جنہوں نے اپنے اپنے شعبوں کے لیے مجوزہ روڈ میپس اجلاس میں پیش کیے۔
یہ بھی پڑھیں: جو شخص سیٹ نہیں جیت سکتا، لیکچر مت دے : عظمیٰ بخاری حسن مرتضیٰ پر برس پڑیں
تجارتی راستے
’’اے پی پی‘‘ کے مطابق ہارون اختر خان نے بتایا کہ ازبکستان کے لیے چین کے ذریعے متبادل تجارتی راستہ مختصر اور آسان ثابت ہو سکتا ہے اور اس حوالے سے منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے۔ اجلاس میں دونوں ممالک کے درمیان توانائی، ٹرانسپورٹ، زراعت اور صنعت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ اس کے علاوہ علاقائی رابطہ کاری کو فروغ دینے اور وسطی ایشیا تک رسائی کے لیے نئے تجارتی مواقع پر بھی غور کیا گیا۔
اقتصادی روابط کی توسیع
اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان اور ازبکستان دوطرفہ تجارت کے حجم میں نمایاں اضافے کے لیے مشترکہ اقدامات کو مزید تیز کریں گے۔ ہارون اختر خان نے کہا کہ وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ اقتصادی روابط کے فروغ کے لیے پاکستان کی سفارتی اور تجارتی کوششیں جاری ہیں۔








