آگلے دن بیگم کو گاؤں سے لیا، ٹرین میں بیٹھے، نئی نئی شادی کے خمار آلود جھونکوں کی چھاؤں میں یہ سفر یوں کٹا جیسے حسین خواب ہو، اندھیرا قدم جما رہا تھا
سفر کا آغاز
مصنف: ع۔غ۔ جانباز
قسط: 78
اگلے دِن اپنی بیگم کو گاؤں سے لیا اور ساتھ ہی گٹی اسٹیشن سے ٹرین میں بیٹھے۔ نئی نئی شادی کے خمار آلود جھونکوں کی چھاؤں میں یہ سفر یوں کٹا جیسے یہ کوئی ایک حسین خواب ہو۔ لاہور سٹیشن پر اُترے اور باہر آکر کھڑے گڑھی شاہو کی طرف جانے والے ایک ٹانگہ میں سوار ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں: وہ ہتھیار جو روایتی ایٹم بم سے بھی زیادہ خطرناک ہے
رات کا منظر
سورج غروب ہوچکا تھا۔ اندھیرا دھیرے دھیرے قدم جما رہا تھا۔ اِس ماحول میں خاموشی کے دَور میں گھوڑے کے سمّوں سے پیدا ہونے والی ”ٹِپ ٹِپ“، ”ٹِپ ٹِپ“ ایک عجیب ”دُھن“ کی تمہید باندھ رہی تھی۔ کہ اس موسیقارانہ ماحول ہی کے دوران ایک ہیولا سا لپکا اور ٹانگے کے ”بم“ کو پکڑ کر لٹک گیا اور ٹانگہ دھیرے دھیرے چلتا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت: محبت کی شادی کرنے والی نئی نویلی دلہن سسرال میں مردہ پائی گئی
پولیس کانسٹیبل کا کردار
شناخت پریڈ کے بغیر ہی پتہ چل گیا کہ وہ صاحب پولیس کانسٹیبل ہیں اور ٹانگے والے کو کسی ناکردہ جرم کی سزا دینے پر تُلے ہوئے ہیں۔ اِس انتہائی ڈرامائی سین کے دوران سڑک پر گرتی ایک ”دونی“ کی آواز سنساتی ہے تو کانسٹیبل صاحب سب گلے شکوے تیاگ کر ٹانگے کے ”بم“ کو چھوڑ کر سڑک پر گری ”دونی“ کی تلاش میں سڑک پر اندھیرے میں ہاتھ پاؤں مارنے لگے۔
یہ بھی پڑھیں: بحیرۂ اسود میں ترک آئل ٹینکر پر حملہ
گڑھی شاہو میں قیام
ہم منزل مقصود پر گڑھی شاہو میں ٹانگے سے اُترے، کرایہ ادا کیا۔ اور اپنی رہائش گاہ پر جوانی کی کھوج میں لگ گئے۔ اور نوبیاہتا جوڑا لاہور کی بھیڑ میں گم ہوگیا۔ گڑھی شاہو میں مین روڈ پر کھلتی گلی کی نکڑ پر واقع ایک فلیٹ کرایہ پر لے کر رہائش اختیار کرلی۔
یہ بھی پڑھیں: ایف آئی اے لاہور زون کی کارروائیاں، انسانی سمگلنگ اور ویزا فراڈ میں ملوث نیٹ ورک کے 4 کارندے گرفتار
چائے کا مرکز
نزدیک ہی نیچے ایک چائے کا ہوٹل تھا جو ساری رات کھلا رہتا۔ وہاں ٹانگے والے، پولیس کے سپاہی، اسٹیشن کو جانے اور آنے والے مسافر، عشقِ نامراد کے ڈسے لوگ جو بے خوابی سے تنگ آکر اِدھر ڈیرہ جما لیتے اور چائے کی پیالی سے اُڑتے ہوئے بخارات کے رُوبرو اپنا حال دل سنا سنا نہ تھکتے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کی پہلی اسمارٹ ماحولیاتی تحفظ فورس کا باقاعدہ آغاز
رات کی سرگرمیاں
رات کے وقت جس وقت بھی فلیٹ میں کبھی آنکھ کھلتی تو نیچے ماحول کو زندہ و تابندہ پایا۔ صبح نماز کے وقت اُس کی تان اُس وقت ٹوٹتی جب ہوٹل کا مالک آواز لگاتا کہ اوہ! ”چھوٹے“ اِدھر آ اِدھر بیٹھ میں ذرا آدھا گھنٹہ سو لوں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی اداکار سمندر میں ڈوب کر ہلاک
لاہور میں قیام
لاہور میں کم و بیش ایک ہفتہ قیام ہوتا۔ اس دوران سوئل سروے کے لیے مطلوبہ سامان لینا، عملہ کی تنخواہیں وصول کرنا، اور اپنے ذاتی کاموں کی تکمیل کرنا۔ گڑھی شاہو میں فلیٹ میں رہائش ایک عارضی بندوبست تھا لہٰذا اپنی بیگم کو میں نے مشورہ دیا کہ وہ یا تو اپنے ماں باپ کے ہاں رہائش رکھّے یا سسرالی گاؤں میں اپنے گھر میں۔
یہ بھی پڑھیں: گیس مہنگی ہونے سے بجلی ایک روپیہ مزید مہنگی ہونے کا امکان
بیگم کا جواب
بیگم کا جواب جرأت رِندانہ کے زمرے میں آتا تھا۔ کہنے لگیں کہ ”میں یا تو فیلڈ میں آپ کے ساتھ رہوں گی یا پھر اگر ذاتی مکان لاہور میں بنوا دیں تو پھر میں لاہور میں رہوں گی“۔
یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی کا اجلاس کل دوبارہ شروع ہوگا
نئی منزل کی تلاش
اب جائے رفتن نہ پائے ماندن والا معاملہ ہوا اور اس فیصلے میں کوئی ردّ و بدل کی گنجائش ہی نہیں چھوڑی تھی۔ چنانچہ مجھے یاد ہے کہ پہلی دفعہ فیلڈ میں ”کھدّر والا ریسٹ ہاؤس“ نزد سمندری ضلع فیصل آباد میں جا پہنچے۔ وہاں رہ کر کوئی ایک مہینہ کام کیا پھر نزدیکی ”موروثی پور ریسٹ ہاؤس“ میں منتقل ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت نے پاکستان کے خلاف آپریشن کو “آپریشن سندور” نام کیوں دیا؟ جانیے
امریکن ایڈ کا سامان
چونکہ لاہور سے امریکن ایڈ کا سامان آگیا لہٰذا اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک خوبصورت نقشہ یہاں ترتیب دیا۔ (جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








