سیکیورٹی ٹریننگ اور ملازمت کے نام پر روس بلایا گیا، دستاویزات اور ذاتی سامان جلوا دیا گیا، پھر کہاں بھیج دیا۔۔۔؟ جنوبی افریقی نوجوانوں کا تہلکہ خیز انکشاف
سیکیورٹی ٹریننگ کے نام پر روس بھیجنے کا انکشاف
ڈربن (خصوصی رپورٹ) سیکیورٹی ٹریننگ اور ملازمت کے نام پر روس بلایا گیا پھر کہاں بھیج دیا گیا؟ جنوبی افریقی نوجوانوں نے تہلکہ خیز انکشاف کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں موجود امریکا منتقلی کے منتظر ہزاروں افغان شہریوں کو واپس افغانستان بھیجنے کا فیصلہ
نوجوانوں کی واپسی اور حیرت انگیز کہانیاں
تفصیلات کے مطابق جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن واپس آنے والے متعدد نوجوانوں نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں سیکیورٹی ٹریننگ اور ملازمت کے نام پر روس بلایا گیا اور بعد ازاں یوکرین جنگ کے محاذ پر بھیجا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی کرکٹ بورڈ کا آئی سی سی ایونٹس میں پاکستان کے گروپ میں نہ رہنے کا منصوبہ
دشوار حالات کا سامنا
بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق 32 سالہ سپھو دلامینی نے بتایا کہ "روس پہنچنے کے بعد ان سے کپڑے، دستاویزات اور ذاتی سامان تک جلوا دیا گیا۔ شروع سے ہی حالات انتہائی سخت تھے اور ہمیں جنگ کے لیے تیار کیے بغیر اگلی صفوں میں بھیج دیا گیا۔"
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی، اسلام آباد، پشاور، ایبٹ آباد، گلگت، چترال سمیت کئی علاقوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے
افریقی جنگجوؤں کا تجربہ
متاثرہ نوجوانوں کا کہنا ہے کہ روسی افواج نے افریقی جنگجوؤں کو سب سے خطرناک مشنز پر بھیجا اور ان کے ساتھ نسلی امتیاز بھی برتا گیا۔ بعض افراد کو ڈرون حملوں کے دوران زخمیوں اور لاشوں کو اٹھانے کے لیے بھیجا جاتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: وانا کیڈٹ کالج حملہ، دہشتگرد افغانستان سے رابطے میں ہیں، آئی ایس پی آر
جنوبی افریقی حکومت کی کارروائی
جنوبی افریقی حکومت کے مطابق 15 شہریوں کو روس سے واپس لایا گیا ہے جبکہ 2 افراد جنگ میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایک زخمی شخص وہیل چیئر پر وطن لوٹا ہے جبکہ ایک کا پیر ڈرون حملے میں ضائع ہو گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مریم نواز نے پاکستان کے پہلے سرکاری آٹزم سکول کا افتتاح کیا، ماہرین کی ہنگامی بھرتی کا حکم
بھرتی کے وعدے اور حقیقت
رپورٹس کے مطابق جنوبی افریقہ کے 20 سے 39 سال کے درمیان درجنوں نوجوانوں کو گزشتہ سال روس بھیجا گیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں وی آئی پی باڈی گارڈ کی تربیت کا وعدہ کیا گیا تھا مگر بعد میں انہیں ایک نیم فوجی گروپ کے تحت یوکرین کے مشرقی علاقے ڈونباس میں لڑنے پر مجبور کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: مہنگائی اور مظاہروں کے باوجود ایران کی حکومت گرنے کے آثار نہیں : برطانوی میڈیا
سابق صدر کا نام اور تحقیقات
اس معاملے میں جنوبی افریقہ کے سابق صدر جیکب زوما کی بیٹی دودوزیلے زوما سمبودلا کا نام بھی سامنے آیا ہے جن پر الزام ہے کہ انہوں نے نوجوانوں کی بھرتی میں کردار ادا کیا۔ اس سکینڈل کے بعد وہ پارلیمنٹ کی نشست سے مستعفی ہو گئی ہیں جبکہ پولیس نے الزامات پر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ مذاکرات کی بات کر رہا ہے لیکن خفیہ طور پر زمینی حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے: ایرانی سپیکر
Wagner Group اور افریقی بھرتی
رپورٹس کے مطابق روس کی نجی فوجی کمپنی Wagner Group پر الزام ہے کہ اس نے افریقی ممالک میں بھرتی مہم چلائی اور نوجوانوں کو نوکری، تربیت یا یورپ پہنچنے کے وعدوں کے ذریعے جنگ میں شامل کیا۔
بین الاقوامی انسانی اسمگلنگ کی تحقیقات
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی افریقہ میں اس معاملے پر تحقیقات جاری ہیں اور ممکنہ طور پر بھرتی کرنے والے افراد کے خلاف انسانی اسمگلنگ اور غیر ملکی جنگ میں شرکت کے الزامات عائد کیے جا سکتے ہیں۔








