سپریم کورٹ نے بیٹے کو مبینہ زہر دینے کے مقدمے میں والد کو بری کر دیا
سپریم کورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ نے بیٹے کو قتل کرنے کے الزام میں گرفتار ملزم کو بری کر دیا۔ عدالت عظمیٰ نے ہائیکورٹ اور ٹرائل کورٹ کی سزائے موت کالعدم قرار دیدی۔ جسٹس اشتیاق ابراہیم نے بریت کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: مسئلہ حل کر دیا ، اب لاپتہ افراد کا الزام ریاست پر نہیں ڈالا جا سکے گا: وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی
فیصلے کی وجوہات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ باپ کا کمسن بیٹے کو زہر دینا انسانی فطرت کے خلاف ہے۔ استغاثہ قتل کی وجہ اور باپ کا مقصد ثابت کرنے میں ناکام رہا۔
یہ بھی پڑھیں: سوشل میڈیا پر اداروں کے خلاف مذموم مہم چلائی جا رہی ہے، ملکی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، طلال چودھری
عدالت کے مشاہدات
فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ گھر میں کیڑے مار ادویات موجود تھیں، بچہ خود بھی پی سکتا تھا۔ 4 سالہ بچہ زہریلی اور عام پینے والی چیز میں تمیز نہیں کر سکتا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ چشم دید گواہوں کے بیانات تضادات سے بھرپور اور غیر فطری ہیں۔ گواہان موقع پر موجودگی کی ٹھوس وجہ بتانے میں ناکام رہے۔ بچے کے لباس کے رنگ سے متعلق ڈاکٹر اور گواہ کے بیانات میں تضاد ہے۔ ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر سے کیس کی صداقت پر سوالات اٹھے۔ شک کا ایک پہلو بھی ملزم کو بریت کا حق دار بناتا ہے۔
واقعے کی پس منظر
یادرہے کہ اگست 2019 میں سکھر کے 4 سالہ مدثر عرف میٹھو کی زہر سے موت ہوئی تھی۔ والد پر گواہان کے سامنے بیٹے کو زہریلی چیز پلانے کا الزام تھا۔ ماموں نے بطور مدعی بچے کے والد کے خلاف مقدمہ درج کرایا تھا۔








