پاکستان نے افغانستان میں کسی شہری علاقے کو نشانہ نہیں بنایا: عطاء تارڑ
پاکستان کی کارروائیاں افغانستان میں
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان نے افغانستان میں کسی شہری علاقے کو نشانہ نہیں بنایا۔
عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ پاکستان، افغانستان کے اندر عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کے خلاف درست انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں کر رہا ہے۔ پاکستان صرف دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے اور ان کے معاون نظام کو ہدف بنا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مالی سال کے پہلے 4 ماہ میں ٹیکسٹائل برآمدات کا حجم 6 ارب 39 کروڑ ڈالر سے تجاوز کرگیا
افغان حکومت کے اعداد و شمار کی تردید
انہوں نے کہا کہ افغان طالبان حکومت کی جانب سے پیش کئے جانے والے خیالی اعداد و شمار کسی سنجیدہ تبصرے کے بھی قابل نہیں ہیں۔ افغان وزارت دفاع کے ترجمان کی جانب سے پاکستان کے خلاف میدان جنگ میں کامیابیوں کے دعوے محض پراپیگنڈا ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں خاتون ڈکیت نے لفٹ لینے کے بہانے شہری سے 7لاکھ 80ہزار روپے لوٹ لیے
افغان شہریوں کی ہلاکتوں کی خبر کی تردید
وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے افغان طالبان رجیم اور اقوام متحدہ کے مشن برائے افغانستان کی طرف سے افغان شہریوں کی ہلاکتوں کی خبر کی بھی تردید کی۔
ان کا کہنا تھا کہ کابل میں قائم اقوام متحدہ کی ایجنسی کی ان معلومات کا مکمل انحصار طالبان حکومت پر ہے۔ افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کی جانب سے مل کر حملے کرنا اس بات کی تصدیق ہے کہ افغان طالبان حکومت اور افغانستان کی سرزمین سے سرگرم متعدد دہشت گرد تنظیموں کے درمیان گٹھ جوڑ موجود ہے۔
پاکستان کے سخت جواب
عطاء اللہ تارڑ نے مزید کہا کہ افغان طالبان رجیم کے تمام حملوں کا فوری اور موثر انداز میں جواب دیا گیا۔ پاکستان نے دہشت گردوں اور ان کے معاونین بشمول افغان طالبان کے فوجی اڈوں کو درست طریقے سے نشانہ بنایا۔








