پاکستان نے افغانستان میں کسی شہری علاقے کو نشانہ نہیں بنایا: عطاء تارڑ
پاکستان کی کارروائیاں افغانستان میں
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان نے افغانستان میں کسی شہری علاقے کو نشانہ نہیں بنایا۔
عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ پاکستان، افغانستان کے اندر عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کے خلاف درست انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں کر رہا ہے۔ پاکستان صرف دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے اور ان کے معاون نظام کو ہدف بنا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئینی بنچ نے قیدیوں کو جیل میں یکساں سہولیات دینے سے متعلق درخواست خارج کردی
افغان حکومت کے اعداد و شمار کی تردید
انہوں نے کہا کہ افغان طالبان حکومت کی جانب سے پیش کئے جانے والے خیالی اعداد و شمار کسی سنجیدہ تبصرے کے بھی قابل نہیں ہیں۔ افغان وزارت دفاع کے ترجمان کی جانب سے پاکستان کے خلاف میدان جنگ میں کامیابیوں کے دعوے محض پراپیگنڈا ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: فرید احمد نے ڈی جی پی آر کا چارج سنبھال لیا، دفتری معاملات پر بریفنگ، سیکرٹری اطلاعات سے ملاقات
افغان شہریوں کی ہلاکتوں کی خبر کی تردید
وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے افغان طالبان رجیم اور اقوام متحدہ کے مشن برائے افغانستان کی طرف سے افغان شہریوں کی ہلاکتوں کی خبر کی بھی تردید کی۔
ان کا کہنا تھا کہ کابل میں قائم اقوام متحدہ کی ایجنسی کی ان معلومات کا مکمل انحصار طالبان حکومت پر ہے۔ افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کی جانب سے مل کر حملے کرنا اس بات کی تصدیق ہے کہ افغان طالبان حکومت اور افغانستان کی سرزمین سے سرگرم متعدد دہشت گرد تنظیموں کے درمیان گٹھ جوڑ موجود ہے۔
پاکستان کے سخت جواب
عطاء اللہ تارڑ نے مزید کہا کہ افغان طالبان رجیم کے تمام حملوں کا فوری اور موثر انداز میں جواب دیا گیا۔ پاکستان نے دہشت گردوں اور ان کے معاونین بشمول افغان طالبان کے فوجی اڈوں کو درست طریقے سے نشانہ بنایا۔








