ٹرمپ کے نیتن یاہو کو معاف کرنے کے مطالبے پر اسرائیلی صدر کا رد عمل آ گیا
ٹرمپ کے نیتن یاہو کو معاف کرنے کی درخواست
تل ابیب (مانیٹرنگ ڈیسک) ٹرمپ کے نیتن یاہو کو معاف کرنے کے مطالبے پر اسرائیلی صدر کا رد عمل آ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں حکومت کے حوالے سے 2 بڑی جماعتوں میں کیا کوئی ’’معاہدہ‘‘ ہوا تھا۔؟ اہم تفصیلات سامنے آ گئیں۔
اسرائیل کے صدر کا مؤقف
تفصیلات کے مطابق اسرائیل کے صدر آئیزیک ہرزوگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس مطالبے پر کہ "وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو معاف کر دیا جائے تاکہ وہ ایران کے ساتھ جاری جنگ پر پوری توجہ دے سکیں" واضح الفاظ میں گفتگو کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بادشاہی مسجد ’’پاکستان زندہ باد ‘‘ کے نعروں سے گونج اٹھی ،بھارت کے بزدلانہ حملے مورال کم نہیں کر سکتے، مولانا عبدالخبیر آزاد
آزاد عدالتی نظام کی اہمیت
امریکی ٹی وی چینل "فاکس نیوز" کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں اسرائیل کے صدر آئیزیک ہرزوگ نے کہا کہ "اسرائیل ایک خودمختار ریاست ہے جہاں تمام فیصلے قانون کے مطابق کیے جاتے ہیں۔ ملک کا عدالتی نظام آزاد ہے اور قانونی معاملات اپنے طے شدہ طریقۂ کار کے تحت چلتے ہیں۔"
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کو کلائمیٹ فنانسنگ کے تحت 41 کروڑ ڈالر ملیں گے، آئی ایم ایف
ٹرمپ کا بیان
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں بیان دیا تھا کہ بنیامین نیتن یاہو کو قانونی مقدمات سے چھٹکارا ملنا چاہیے تاکہ وہ ایران کے خلاف جاری جنگی صورتحال پر مکمل توجہ مرکوز کر سکیں۔
اسرائیلی نظامِ انصاف کی خودمختاری
عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی صدر آئیزیک ہرزوگ کے بیان کو اسرائیلی نظامِ انصاف کی خودمختاری پر زور دینے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔








