اپوزیشن اتحاد کا حکومت سے ایران جنگ میں فریق نہ بننے، بورڈ آف پیس چھوڑنے اور پیٹرول کی قیمت کم کرنے کا مطالبہ
اپوزیشن کا حکومت پر زور
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) اپوزیشن اتحاد اور پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے حکومت سے بورڈ آف پیس سے فوری نکلنے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید سے یوکرین کے صدر زیلنسکی کی اہم ملاقات
پریس کانفرنس کی تفصیلات
ایکسپریس نیوز کے مطابق اسلام آباد میں پی ٹی آئی رہنماؤں سلمان اکرم راجہ، بابر اعوان اور علامہ راجہ ناصر عباس نے پیر کے روز پریس کانفرنس کی۔
یہ بھی پڑھیں: گرائے گئے طیارے کے ایک پائلٹ کو ریسکیو کرلیا : امریکی و اسرائیلی حکام کا دعویٰ
سلمان اکرم راجہ کی تنقید
پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اس وقت خلیجی ممالک میں غیر معمولی صورتحال کا سامنا ہے، خطے پر بربریت مسلط کر دی گئی ہے۔ عمان میں ہونے والی گفتگو نتیجے ہر پہنچنے والی تھی مگر صہیونی قوتوں نے سب تہس نہس کر دیا۔ وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اپنا کردار ادا کرے کیونکہ ہم ایک ایٹمی قوت ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں اداروں اور عوام کو ایک دوسرے کے سامنے کھڑا کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کارتک آریان نے فلم کیلئے 50 کروڑ معاوضہ کی خبروں پر خاموشی توڑ دی
عوام کے مسائل اور سزائیں
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ 55 روپے فی لیٹر پٹرول میں اضافہ عندیہ ہے کہ ہمارے ساتھ آگے کیا ہونے والا ہے۔ خطے میں کسی اور ملک میں اتنی قیمت نہیں بڑھی۔ اشرافیہ نے اس موقع کو غنیمت جانا اور اپنی شاہ خرچی کم کرنے کے بجائے بوجھ عوام پر ڈال دیا۔ ہمیں اس نظام کو بدلنا ہو گا، یہ وقت ہے جب ماضی پر نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نرگس پر اپنے شوہر کے تشدد کا الزام: ‘انسپیکٹر ماجد نے سرکاری پستول سے میرے چہرے پر حملہ کیا’
سینیٹر کا بیان
سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کے تمام قوانین کو پاوں تلے روند دیا ہے۔ یہ حملہ صرف ایران پر نہیں بلکہ پوری امہ پر ہے۔ عرب ممالک میں جو اڈے بنے آج سب کے سامنے وجہ واضح ہو گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد خواتین قیدیوں کی تعداد بڑھ کر ایک ہزار 825 تک پہنچ گئی
بابر اعوان کا مطالبہ
پی ٹی آئی رہنما بابر اعوان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پاکستان بورڈ آف پیس میں شمولیت کو فوری معطل کر دے۔ انڈونیشیا نے بھی بورڈ آف پیس میں شمولیت کا فیصلہ روک دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان میں 47 لوگوں کو ان کی عدم موجودگی میں سزائیں سنائی گئیں، اور ایسے فیصلوں کی کوئی حیثیت نہیں۔
آگے کا راستہ
اب یہ وقت ہے کہ حکومت کو بھیجا جائے یا پھر شفاف الیکشن کروائے جائیں۔ ایسا کوئی فارمولا نہیں بنا کہ عمران خان کے بغیر معاملات ٹھیک ہو سکیں۔ فوری طور پر عمران خان کو رہا کر کے گفتگو کا آغاز کیا جائے۔ ہمیں دو اسلامی ممالک کی جنگ میں فریق نہیں بننا چاہیے۔








