روسی صدر نے ٹیلیفونک کال کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کیخلاف جنگ ختم کرنے کا مشورہ دیا
پیوٹن کا ٹرمپ کو مشورہ
ماسکو (ڈیلی پاکستان آن لائن) روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے امریکی ہم منصب کو ایران سے جنگ ختم کرنے کا مشورہ دیدیا۔
یہ بھی پڑھیں: جس طرح لاہور کے بغیر پاکستان کا ذکر مکمل نہیں اسی طرح ریلوے کی کہانی ہو اور اس میں لاہورجنکشن کا نام نہ آئے یہ ہو ہی نہیں سکتا
ٹیلیفونک رابطہ
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔ بات چیت میں صدر پیوٹن نے ایران سے جنگ کے جلد خاتمے کے لیے ٹرمپ کو کچھ تجاویز دیں۔
یہ بھی پڑھیں: نامناسب انداز سے بار بار چھونے پر ڈائریکٹر کو سب کے سامنے تھپڑ ماردیا تھا: پاکستانی اداکارہ سارہ عمیر کا انکشاف
غیر ملکی امور پر گفتگو
روسی ایوان صدر کریملن کے خارجہ پالیسی کے معاون یوری اوشاکوف کے مطابق ٹیلیفونک رابطے کے دوران دونوں رہنماؤں نے یوکرین تنازعے اور وینزویلا کی صورت حال پر بھی بات چیت کی اور اس کے علاوہ تیل کی عالمی صورت حال بھی زیر غور آئی۔
یہ بھی پڑھیں: کالعدم تنظیموں اور غیر رجسٹرڈ خیراتی اداروں کی فہرست جاری، کسی قسم کی معاونت فراہم کرنا جرم قرار
توانائی بحران
اس سے قبل صدر پیوٹن نے کہا تھا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ نے عالمی توانائی بحران کو جنم دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مون سون سیزن: لیسکو ٹیموں کو 24 گھنٹے فیلڈ میں رہنے کا حکم، ڈیسنٹرلائز سٹور سسٹم بھی متعارف کرا دیا
مجتبیٰ خامنہ ای کو مبارکباد
روسی صدر نے گزشتہ روز ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو مبارک باد کا پیغام بھی بھیجا تھا۔
پیوٹن کا پیغام
اپنے پیغام میں روسی صدر نے کہا کہ 'ایسے وقت میں جب ایران جارحیت کا سامنا کر رہا ہے، اس اعلیٰ منصب پر آپ کی ذمہ داریاں یقیناً ہمت اور لگن کا تقاضا کریں گی'۔
پیوٹن نے مزید کہا کہ 'مجھے یقین ہے کہ آپ وقار کے ساتھ اپنے والد کے کام کو جاری رکھیں گے اور سخت آزمائشوں کے دوران ایرانی قوم کو متحد رکھیں گے'۔








