اظہارِ رائے کی آزادی ہے لیکن ’ریڈ لائن‘ عبور کرنے پر کارروائی ہوگی، اعظم نذیر تارڑ
آزادیِ اظہارِ رائے پر وفاقی وزیر قانون کا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت ہر شہری کو اظہارِ رائے کی آزادی حاصل ہے، تاہم اس آزادی پر قانون کے تحت بعض پابندیاں بھی موجود ہیں۔ اسلام، سلامتی اور قومی سیکیورٹی جیسے معاملات میں احتیاط ضروری ہے۔ پاکستان کے دوست ممالک کے تعلقات پر غیر ذمہ دارانہ تبصرے مناسب نہیں اور اگر کوئی ریڈ لائن کراس کرے گا تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ڈیزل 14 روپے سستا کردیا گیا
وفاقی وزرا کی مشترکہ پریس کانفرنس
اسلام آباد میں وفاقی وزرا عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ حکومت کا موٹرسائیکلوں کی نمبر پلیٹس تبدیل کرنے کا حکم، شہریوں پر مالی بوجھ
خطے کے ممالک کے ساتھ تعلقات
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ خطے کے ممالک کے ساتھ پاکستان کے قریبی اور دوستانہ تعلقات قائم ہیں جبکہ خارجہ پالیسی سے متعلق سوشل میڈیا پر غیر ضروری تبصرے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ملک میں مغربی ہواؤں کی آمد، بارش اور برفباری کی پیشگوئی
میڈیا کی ذمہ داری
ان کا کہنا تھا کہ دو ممالک کے تعلقات پر منفی وی لاگز بنانا اور سنسنی پھیلانا ملک کی خدمت نہیں ہے۔ ایسے رویے پاکستان کے عالمی مقام کو متاثر کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کے پی میں عدم اعتماد کی تجویز زیر بحث نہیں، صوبے کو بحران میں ڈالنے کا کام نہیں کریں گے: عرفان صدیقی
آئینی ذمہ داریاں
عطاء اللہ تارڑ نے مزید کہا کہ میرا حلف اور آئین مجھے دفتر خارجہ کے مؤقف کے مطابق بات کرنے کا پابند بناتا ہے اور ذاتی پسند یا سیاسی ایجنڈے کی بنیاد پر تبصرہ مناسب نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 2 اہم شخصیات کی ملاقات
سوشل میڈیا اور تجزیہ
ان کا مزید کہنا تھا کہ دیگر ممالک میں ہماری میڈیا پر کی گئی بات کو ریاستی پالیسی سمجھا جاتا ہے، اس لیے سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر تبصرے میں احتیاط ضروری ہے، البتہ مقامی سیاست پر تنقید کی گنجائش موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاک، سعودی معاہدہ مسلم ممالک میں اتحاد کی طرف بڑھنے کا پہلا قدم ہے: حافظ نعیم الرحمان
پاکستان کا سفارتی کردار
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پاکستان جغرافیائی لحاظ سے ایک اہم ملک ہے اور موجودہ صورتحال میں پاکستان نے سفارتی حل کی کوشش کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایوب حکومت کے دوران بہت سے عدالتی فیصلے ایسے ہیں جنکے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ججوں نے مارشل لاء یا حکومت کے دباؤ پر کیے
پارلیمان کی آگاہی
انہوں نے بتایا کہ پارلیمان کو بھی اس جنگ کے حوالے سے آگاہ کیا گیا اور وزیراعظم نے سپریم لیڈر کی شہادت پر بیان بھی جاری کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک ذمہ دار نیوکلیئر ریاست ہے جس کا دفاعی و خارجہ پالیسی پر واضح مؤقف ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جواد احمد نے موجودہ دور کے گلوکاروں کو ’’لالچی‘‘ قرار دے دیا
خارجہ تعلقات پر غیر ذمہ دارانہ تبصرے
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت ہر شہری کو اظہارِ رائے کی آزادی حاصل ہے، مگر اس آزادی پر قانون کے تحت کچھ پابندیاں ہیں۔ اسلام، سلامتی اور قومی سیکیورٹی کے معاملات میں احتیاط ضروری ہے۔ پاکستان کے دوست ممالک کے تعلقات پر غیر ذمہ دارانہ تبصرے مناسب نہیں اور اگر کوئی ریڈ لائن کراس کرے گا تو اس کے خلاف ضروری کارروائی کی جائے گی۔
سیکیورٹی کونسل میں کردار
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اس تنازع میں بھرپور سفارتی کردار ادا کر رہا ہے اور وزیراعظم مختلف ممالک سے رابطوں میں ہیں۔ علاوہ ازیں، پاکستان نے سلامتی کونسل میں بھی فعال کردار ادا کیا ہے۔








