امریکہ اور اسرائیل کے تہران میں شدید فضائی حملے، ساری رات دارالحکومت دھماکوں سے گونجتا رہا
تہران میں فضائی حملے
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) - ایران کے دارالحکومت تہران میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شدید فضائی حملوں کے بعد شہریوں نے خوف اور بے یقینی کی رات گزاری۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد یہ دارالحکومت پر ہونے والی شدید ترین بمباری میں سے ایک تھی۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد احتجاج، پی ٹی آئی قیادت کیخلاف راولپنڈی میں ایک اور مقدمہ درج
بمباری کی شدت
رپورٹس کے مطابق رات کے وقت جنگی طیاروں نے کم بلندی پر پرواز کرتے ہوئے شہر کے مختلف علاقوں پر درجنوں بھاری بم گرائے جس سے کئی علاقوں میں زوردار دھماکے سنے گئے اور شہری خوفزدہ ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: خواجہ آصف نے اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی نہ ہونے پر 18ویں ترمیم کو ڈھکوسلا قرار دے دیا
شہریوں کی گواہی
تہران کے مغربی علاقے میں رہنے والی ایک خاتون نے بتایا کہ ابتدا میں تقریباً پندرہ منٹ تک مسلسل ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے درجنوں لڑاکا طیارے ان کے سروں کے اوپر پرواز کر رہے ہوں، پھر کچھ وقفے کے بعد دوبارہ حملے شروع ہو جاتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کا معروف ماہرِ تعلیم ڈاکٹر شفقت حسین چوہدری کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار
دھماکوں کا اثر
شہریوں کے مطابق دھماکوں کی شدت سے زمین اور عمارتوں کی کھڑکیاں تک لرز رہی تھیں جس کے باعث بہت سے لوگ اپنے گھروں کے محفوظ حصوں یا باتھ رومز میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: بیوی کو گھورنا، طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی، گالی دینا جرم قرار
دیگر شہروں پر حملے
مقامی میڈیا کے مطابق تہران کے علاوہ اصفہان اور کرج سمیت دیگر شہروں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: دالوں اور دیگر اشیا خورونوش کی قیمتوں میں 20 سے 60 روپے تک کمی کا نوٹیفکیشن جاری
حکومتی ردعمل
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ منگل کا دن ایران کے اندر حملوں کے حوالے سے سب سے زیادہ شدید ہوسکتا ہے۔ شدید بمباری کے باعث بعض علاقوں میں بجلی کی فراہمی عارضی طور پر متاثر ہوئی تاہم حکام کے مطابق چند گھنٹوں میں بجلی بحال کر دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعرات) کا دن کیسا رہے گا؟
انٹرنیٹ کی پابندیاں
دوسری جانب ایرانی حکومت نے جنگ کے دوران ملک بھر میں انٹرنیٹ کی سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں جس کے باعث شہریوں کو معلومات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر یہ پابندیاں برقرار رکھی جائیں گی۔
نقصان کا اندازہ
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں رہائشی علاقوں، اسپتالوں، اسکولوں اور تاریخی مقامات کو بھی نقصان پہنچا ہے، جبکہ حکومت نے عالمی برادری سے شہریوں کو پہنچنے والے نقصان پر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے.








