پاکستان تحریک انصاف کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی
اجلاس کی اندرونی کہانی
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان تحریک انصاف کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔ جیو نیوز کے مطابق اجلاس میں شاہد خٹک اور سینیٹر زرقا کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔ شاہد خٹک نے الزام لگایا کہ آپ نے پیسے لیے ہیں، آپ کیوں یہاں بیٹھی ہیں؟
یہ بھی پڑھیں: آپریشن سندور عسکری، سٹریٹجک اور سفارتی سطح پر کس طرح ناکام ہوا؟
بیرسٹر علی ظفر کا ردعمل
شاہد خٹک کے سینٹر زرقا پر الزام پر بیرسٹر علی ظفر برہم ہوگئے اور کہا کہ اگر ہمارے ارکان کی بے توقیری کریں گے تو بائیکاٹ کر دیتا ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: اپوزیشن اتحاد نے محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف نامزد کردیا
ممبران قومی اسمبلی اور سینیٹرز کی تنقید
اجلاس میں موجود دیگر ممبران قومی اسمبلی اور سینیٹرز نے بھی شاہد خٹک کے بیانات پر اعتراض کیا اور کہا کہ وہ حدود سے تجاوز کر رہے ہیں۔ سینیٹر زرقا کا مؤقف یہ تھا کہ انہوں نے نوٹس دیا جس کا جواب دیا، اگر مطمئن نہ ہوتے تو پارٹی سے نکال دیتے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت پنجاب نے افرادِ باہم معذوری کیلیے جدید بایونک مصنوعی اعضاء کی فراہمی کا آغاز کر دیا
اجلاس میں بیان بازی اور تشویش
بیرسٹر گوہر علی نے کہا کہ ایک طرف ایران کی جنگ ہے جبکہ دوسری طرف آپ کی جنگ جاری ہے۔ جنیداکبر کا کہنا تھا کہ یہ یوتھ پینل کے چند افراد ہیں جو وزیراعلی کو چلا رہے ہیں، جبکہ بانی پی ٹی آئی کو ریلیف کیوں نہیں مل رہا۔ بدقسمتی سے چند افراد ہی فیصلے کرتے ہیں اور کوئی مشاورت نہیں ہوتی۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمتوں میں ردو بدل جاری
کمیٹیوں کے معاملات
اجلاس میں کہا گیا کہ کسی نے بانی پی ٹی آئی کا کندھا کمیٹیوں کے معاملے پر استعمال کیا۔ اجلاس کے اختتام پر بیرسٹر گوہر نے گفتگو میں کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت پر تشویش ہے، 100 کے قریب ارکان نے تحفظات کا اظہار کیا۔ یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کے معاملے پر قومی اسمبلی میں قرارداد پیش کی جائے۔
اختتامی بیان
بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ اجلاس میں تلخ کلامی یا تشویش کی بات نہیں ہے اور سب ہمارے ساتھی ہیں، ایسا ہوتا رہتا ہے اور یہ کچھ سیریس نہیں ہے۔








