مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور حکومت کی کفایت شعاری مہم، کالم نویس خالد مسعود خان نے ساری کہانی بے نقاب کردی
کفایت شعاری مہم کا اعلان
لاہور (ویب ڈیسک) مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے پیش نظر ممکنہ معاشی مشکلات کو دیکھتے ہوئے حکومت نے کفایت شعاری مہم کا اعلان کیا ہے لیکن اس مہم کے پیچھے کی سالہا سال سے چلی آرہی کہانی سینئر کالم نویس خالد مسعود خان نے بے نقاب کردی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے اجیت دوول کی جانب سے 9 اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنانے کا دعویٰ مسترد کر دیا
خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
روزنامہ دنیا میں چھپنے والے اپنے کالم میں خالد مسعود نے لکھا کہ "ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے کے بعد پیدا ہونے والی مجموعی صورتحال اور خاص طور پر تیل کی عالمی منڈی میں پیدا ہونے والی صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جہاں سرکار نے تیل کی تمام مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کرکے عوام کا تیل نکال کر اپنے اقتدار کی لگژری گاڑی میں ڈالنے کا بندوبست کیا ہے‘فروری کے آخر میں ہمارے ہاں پٹرول کی قیمت 258 روپے فی لیٹر تھی جبکہ خام تیل کی قیمت 68 ڈالر فی بیرل کے لگ بھگ تھی۔ مارچ کے دوسرے ہفتے میں خام تیل119 ڈالر فی بیرل ہوا تو ہمارے ہاں قیمت 321 روپے فی لیٹر ہو گئی۔ ہم نے یہ اضافہ سراسر مفروضے کی بنیاد پر کیا کہ تیل کی نئی قیمت ہمیں متاثر کرے گی۔ نئی قیمت پر تیل کی خرید ابھی ہم سے کوسوں دور تھی اور ہمارے ذخائر پر مبنی سارا تیل پرانی قیمت پر خرید کردہ تھا۔ ابھی ہم نے 119 ڈالر فی بیرل والی قیمتوں پر کوئی سودا بھی نہیں کیا تھا کہ عالمی منڈی میں یہ قیمتیں کم ہو کر دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل پر آ گئیں۔ 119 ڈالر فی بیرل والی قیمت کو بہانہ بنا کر ہم نے قیمتوں میں بائیس فیصد اضافہ تو کر دیا تاہم قیمتیں کم ہونے کے باوجود ان میں فوری طور پر کوئی کمی نہیں کی۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (پیر) کا دن کیسا رہے گا ؟
سستی شہرت کی کوششیں
اس عالمی بحران کی چھتری تلے حکومت کو ایک بار پھر Austerity یعنی سادگی‘ بچت اور کفایت شعاری کا دورہ پڑ گیا ہے۔ یہ جو میں نے دورہ کا لفظ استعمال کیا ہے تو اس کے پیچھے ماضی کے تلخ تجربات کا ہاتھ ہے۔ حکومتوں کو جب عوام میں اپنے نمبر بنانے کا دورہ پڑتا ہے تو وہ سستی شہرت کے حصول کیلئے اس قسم کے ڈرامے کرتی ہیں۔ صدر ضیا الحق نے سائیکل سواری کا ڈرامہ کرنے پر سرکار کے کروڑوں روپے اڑا دیے۔ انہی کے وزیراعظم محمد خان جونیجو نے سرکاری افسروں‘ وزیروں اور مشیروں وغیرہ کیلئے بڑی گاڑیوں کے بجائے چھوٹی گاڑیاں استعمال کرنے کا اعلان کیا۔ پرانی بڑی گاڑیاں اونے پونے بیچ کر ان میں مزید پیسے ڈال کر نئی چھوٹی گاڑیاں خرید لی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ ایمن زمان کا شوہر مجتبیٰ لاکھانی سے علیحدگی کا اعلان
محض ایک دکھاوے کی مہم؟
اس ساری بچت سکیم میں عوام کے ٹیکس کے ساتھ جو سلوک ہوا وہ ایک علیحدہ درد ناک داستان ہے۔ چند سال پرانی بات ہے میں اپنے ایک دوست سرکاری افسر کے پاس اسلام آباد میں پاک سیکرٹریٹ کی تیسری منزل پر واقع اس کے دفتر میں بیٹھا ہوا تھا کہ اس دور میں کیے جانے والے Austerity اقدامات کا ذکر چل پڑا۔ میں نے اپنے دوست سے پوچھا کہ اس مہم کا حقیقی بچت سے کیا تعلق ہے؟ وہ ہنسا اور کہنے لگا: ہم سرکاری بابو اس سلسلے میں بڑے ہوشیار اور کائیاں ہیں۔ ہم اس بچت مہم کی طے کردہ حدود وقیود اور پابندیوں میں سے اپنی مرضی کا راستہ نکالنے کے فن میں بڑے ماہر فنکار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور میں ٹماٹر سستے، پیاز مہنگا ہو گیا
عمران خان کی کوششیں
انہوں نے مزید لکھا کہ چند سال قبل عمران خان کو بھی اسی قسم کا خبط اٹھا۔ وزیراعظم ہائوس کی ساری لگژری اور بلٹ پروف گاڑیاں سکریپ کے بھائو بیچ کر ان سے جان چھڑوا لی گئی۔ خود وزیراعظم ہائوس میں رہنے کی "عیاشی" سے انکار کرتے ہوئے اپنی ذاتی رہائش گاہ بمقام بنی گالا کو وزیراعظم ہائوس کا درجہ عطا کر دیا۔
خرچوں کا بوجھ
حکمرانوں کے صرف ایک جہاز پر ہونے والے اخراجات کے بعد اس بات پر ہنسی آتی ہے کہ ہمارے امیر کبیر حکمران تنخواہ نہیں لیتے۔ میری حکمرانوں سے درخواست ہے کہ آپ براہِ کرم ہمارے ٹیکس کی رقم سے اپنے اوپر والے اللّے تلّلے بند کر دیں اور خدا کے واسطے اپنی تنخواہ لینا شروع کر دیں۔








