وزیراعظم کی خلیجی ممالک کو وافر مقدار میں اشیاء خور و نوش برآمد کرنے کی ہدایت
اجلاس کی تفصیلات
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر ملک میں غذائی صورتحال اور وافر اشیاء کی برآمدت پر جائزہ اجلاس ہوا جس میں ملکی غذائی ضروریات کیلئے اشیاء خورونوش کی طلب و رسد کی مکمل نگرانی کا حکم دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں 3 سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کرنے والا گھریلو ملازم گرفتار
اشیاء خورونوش کی دستیابی
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق اجلاس میں بتایا گیا کہ پاکستان میں اشیاءِ خورونوش کا وافر ذخیرہ موجود ہے، کسی بھی چیز کی قلت نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اگر 10 بچے بھی ہوتے تو فوج میں بھیج دیتا، اکلوتے بیٹے کیپٹن تیمور حسن شہید کی شہادت پر بہادر والد بریگیڈیئر حسن عباس کے حوصلے بلند (ویڈیو دیکھیں)
برآمدات کی بڑھتی ہوئی استعداد
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ عالمی سپلائی چینز متاثر ہونے سے خطے میں پاکستانی مصنوعات کی برآمد کی استعداد میں اضافہ ہوا ہے، موجودہ صورتحال میں خلیجی ممالک کو درکار اشیاء خورونوش کی فراہمی اور ان کے غذائی تحفظ کا خیال رکھا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: کسٹمر سروس! خراب کوالٹی کی منشیات پر ڈرگ ڈیلر کی معذرت، گاہکوں کو مفت سیمپل دینے کی پیشکش
برآمدات کے لئے جامع لائحہ عمل
انہوں نے کہا کہ پاکستانی غذائی ضروریات کو متاثر کئے بغیر وافر مقدار میں موجود اشیاء خورونوش کی خلیجی ممالک میں برآمد کیلئے جامع لائحہ عمل تشکیل دیا جائے، برادر خلیجی ممالک میں اشیاء خورونوش کی برآمد کرتے وقت اعلی معیار یقینی بنایا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کے ساتھ معاہدہ پوری دنیا میں امن کا ضامن بنے گا، علامہ طاہر محمود اشرفی
سمندری راستوں کا استعمال
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پی این ایس سی بحری راستے کے ذریعے برادر خلیجی ممالک میں اشیاء خورونوش برآمد کرنے کیلئے ضروری اقدامات کرے۔
یہ بھی پڑھیں: دبئی کی ایئر لائن نے پروازوں کا نیٹ ورک 110 شہروں تک بڑھا دیا
بریفنگ کا احوال
اجلاس کو ملک میں موجود اشیاء خورونوش کے موجودہ ذخائر اور پیداوار پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا کہ پاکستان کے زرعی شعبے بشمول زرعی اجناس، گوشت، پولٹری، ڈیری اور سی-فوڈ میں برآمد کی وسیع استعداد موجود ہے۔
کمیٹی کی تشکیل
وزیرِاعظم نے اس حوالے سے کمیٹی تشکیل کرنے کی ہدایت کر دی جو روزانہ کی بنیاد پر صورتحال کا جائزہ لے گی، برادر خلیجی ممالک میں تعینات سفیران و ٹریڈ افسران کو متحرک رہنے کی ہدایت کی گئی۔








