وزیراعظم کی خلیجی ممالک کو وافر مقدار میں اشیاء خور و نوش برآمد کرنے کی ہدایت
اجلاس کی تفصیلات
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر ملک میں غذائی صورتحال اور وافر اشیاء کی برآمدت پر جائزہ اجلاس ہوا جس میں ملکی غذائی ضروریات کیلئے اشیاء خورونوش کی طلب و رسد کی مکمل نگرانی کا حکم دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کا مستقبل میں بجلی کی خریداری نہ کرنے کا فیصلہ، سستی بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کا اعلان
اشیاء خورونوش کی دستیابی
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق اجلاس میں بتایا گیا کہ پاکستان میں اشیاءِ خورونوش کا وافر ذخیرہ موجود ہے، کسی بھی چیز کی قلت نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعظم کی عمان کے سلطان سے ٹیلی فونک گفتگو، خطے میں مزید کشیدگی روکنے کیلئے سفارتی کوششیں دوبارہ شروع کرنے پر زور
برآمدات کی بڑھتی ہوئی استعداد
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ عالمی سپلائی چینز متاثر ہونے سے خطے میں پاکستانی مصنوعات کی برآمد کی استعداد میں اضافہ ہوا ہے، موجودہ صورتحال میں خلیجی ممالک کو درکار اشیاء خورونوش کی فراہمی اور ان کے غذائی تحفظ کا خیال رکھا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: قبر سے 7 سالہ بچی کی میت غائب، ماموں دعا کے لیے آیا تو کفن باہر پڑا تھا
برآمدات کے لئے جامع لائحہ عمل
انہوں نے کہا کہ پاکستانی غذائی ضروریات کو متاثر کئے بغیر وافر مقدار میں موجود اشیاء خورونوش کی خلیجی ممالک میں برآمد کیلئے جامع لائحہ عمل تشکیل دیا جائے، برادر خلیجی ممالک میں اشیاء خورونوش کی برآمد کرتے وقت اعلی معیار یقینی بنایا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: وطن عزیز پر جانیں نچھاور کرنے والے شہدا کو سلام، جنگ جیت لی لیکن امن چاہتے ہیں: وزیر اعظم کا ’’یوم تشکر‘‘ کی مرکزی تقریب سے خطاب
سمندری راستوں کا استعمال
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پی این ایس سی بحری راستے کے ذریعے برادر خلیجی ممالک میں اشیاء خورونوش برآمد کرنے کیلئے ضروری اقدامات کرے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان نے کہا کہ جو میرے اور بشریٰ بی بی کے ساتھ ہو رہا ہے یہ مینٹل ٹارچر ہے، علیمہ خان
بریفنگ کا احوال
اجلاس کو ملک میں موجود اشیاء خورونوش کے موجودہ ذخائر اور پیداوار پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا کہ پاکستان کے زرعی شعبے بشمول زرعی اجناس، گوشت، پولٹری، ڈیری اور سی-فوڈ میں برآمد کی وسیع استعداد موجود ہے۔
کمیٹی کی تشکیل
وزیرِاعظم نے اس حوالے سے کمیٹی تشکیل کرنے کی ہدایت کر دی جو روزانہ کی بنیاد پر صورتحال کا جائزہ لے گی، برادر خلیجی ممالک میں تعینات سفیران و ٹریڈ افسران کو متحرک رہنے کی ہدایت کی گئی۔








