وقت کے ساتھ مافیاز کی گرفت نظام پر مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جا رہی ہے اور حکومتی رٹ کمزور تر، ہم میں میں نہ ہی کوئی ایوبی ہے اور نہ ہی کوئی غزنوی
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 468
یہ بھی پڑھیں: واقعہ کربلا کی روشنی میں پاکستان خود دار فلاحی ریاست بن سکتا ہے: وزیراعظم
مافیاز اور گورنس
اس ملک میں مافیاز ہیں جس میں ہر محکمے کے بڑے شامل ہیں۔ اب تو اپنی سکن بچانے والی بات رہ گئی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان مافیاز کی گرفت نظام پر مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جا رہی ہے اور حکومتی رٹ کمزور تر۔ وجہ یہ ہے کہ ان مافیاز میں ہر طبقے کے افراد شامل ہیں۔ کاروباری، جج، فوجی، افسر شاہی، کوئی بچا نہیں ہے۔ میرے جیسے اور بہت سے افسر گوشت پوست کے انسان ہی ہیں ان میں نہ ہی کوئی ایوبی ہے اور نہ ہی کوئی غزنوی اور نہ ہی کوئی منظور الٰہی۔(سابق آئی سی ایس افسر اور سابق نگران وزیر اعلیٰ پنجاب) میرے عزیز تھے۔
یہ بھی پڑھیں: جو وعدہ کرتا ہوں پورا کرتا ہوں، ہمیں کسی سے بھیگ مانگنے کی ضرورت نہیں،سرفرار بگٹی
گورننس نظام کی خامیاں
یہ بھی ہمارے ہی گورننس نظام کی خوبی ہے کہ ایسے افسران جو غیر قانونی کاموں میں ملوث رہے ہوں اپنے اثر رسوخ، ناجائز کمائی کی بدولت سزا سے ہی نہیں بچتے بلکہ اچھی اور بہتر پوسٹنگ بھی حاصل کر لیتے ہیں۔ ایسا ہی ایک افسر تھا۔ وہ ڈائریکٹر مقامی حکومت ملتان تھا تو اس نے غیر قانونی ترقیاں ان اہل کاروں کو دیں جو مستحق ہی نہ تھے۔ انکوائری ہوئی، جرم ثابت ہوا۔ چیف سیکرٹری کے پاس اپیل میں وہ کیسے ثابت شدہ کیس سے بچ گیا اللہ ہی جانتا ہے۔ میری اطلاع کے مطابق اس نے خطیر رقم اپیل سننے والے افسر کو پیش کی تھی۔ بعد میں وہ کئی سال ایک ضلع کا ڈی سی رہا۔
یہ بھی پڑھیں: کسی ممبر نے ہراساں کرنے کی تحریری شکایت درج نہیں کرائی، چیئرمین سینیٹ
جواب دہی کا نظام
ایسا ہی ایک اور افسر تھا۔ یہ بھی عجب بات تھی کہ سی ایس پی اپنے کیڈر، پولیس والے اپنے کیڈر اور پی ایم ایس والے اپنے کیڈر کا خیال کرتے ہیں جبکہ "ماتھڑ ساتھی" رل جاتے ہیں۔ سزائیں بھی انہی کے حصے میں آتی ہیں اور جفائیں بھی انہی کا مقدر بنتی ہیں۔ جس نظام میں جواب دہی کا نظام دھاگہ جتنا ہی مضبوط ہو وہاں ایسی مثالیں ہی جنم لیتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد کے 3 حلقوں کے ٹریبونل کی تبدیلی کا کیس: الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو جواب جمع کرانے کا آخری موقع دیا
انٹی کرپشن ناکام ادارہ
میں اپنے تجربے کی بنیاد پر بڑے وثوق سے کہتا ہوں کہ اگر ہر محکمے کا اپنا احتساب کا نظام ہو جو غلط اور غیر قانونی کاموں پر نظر رکھے اور ملوث افراد کی جزا سزا کا ذمہ دار ہو تو بہتری ضرور آئے گی۔ احتساب کے اس عمل سے محکموں کی کارکردگی بھی بہتر ہو جائے گی۔ انٹی کرپشن کا محکمہ توسرے سے ختم ہی کر دینا چاہیے۔ یہ کرپشن تو نہ روک سکا بلکہ الٹا کرپشن میں اضافہ کا باعث ضرور بنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مچل سٹارک نے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے کا وسیم اکرم کا ریکارڈ توڑ دیا
آڈٹ کا مسئلہ
اسی طرح آڈٹ کا محکمہ بھی نہیں ہونا چاہیے۔ آڈٹ صرف آڈٹ افسر کا ہو جو پیسے لئے بغیر شاید والد کا بھی بل پاس نہ کرے۔ آڈٹ افسر کا کڑا احتساب آڈٹ کی بہت سی بیماریوں سے چھٹکارے کا نسخہ کمیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بگ بیش لیگ میں انتہائی سست بیٹنگ کرنے پر محمد رضوان کو زبردستی ریٹائر کر کے باہر بلا لیا گیا
غیر ملکی تربیت
غیر ملکی تربیت پر جانا ہر افسر کی خواہش ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے بہت سی غیر ملکی ٹریننگز کی اطلاع ہی ٹرینگ کی تاریخ گزرنے کے بعد ملتی۔ بروقت مل بھی جائے تو انتخاب کے لئے سفارش بہت اہمیت رکھتی تھی۔ اگست 2014ء میں مجھے بھی یہ موقع ملا مگر مجھے کسی قسم کا تردد نہیں کرنا پڑا تھا کہ اس تربیت میں شرکت کے لئے انتخاب خود سیکرٹری مقامی حکومت نے کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: سابق فاسٹ بولر بریٹ لی آسٹریلین کرکٹ ہال آف فیم میں شامل
نتیجہ
یہ تربیعت پروگرام جنوبی کوریا کی تنظیم KOICA کی طرف سے تھا جو دنیا کے 100 سے زیادہ ممالک کے افسران کو تربیت کے لئے اپنے ہاں مدعو کرتی ہے اور اپنے کامیاب پروگرامز کے بارے تربیت کے علاوہ جدید سروسز (خدمات) کے بارے بھی معلومات اور ڈگری کورسز کراتی ہے۔ (جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








