تیسرا ون ڈے: پاکستان کی امپائر کے فیصلے پر میچ ریفری سے شکایت
پاکستان کرکٹ ٹیم کی شکایت
ڈھاکہ(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کرکٹ ٹیم نے میرپور میں کھیلے گئے تیسرے ون ڈے کے دوران امپائر کے متنازع فیصلے پر میچ ریفری نعیم راشد سے باضابطہ شکایت درج کرادی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایس او ٹی ایونٹس 2024 کا کراچی میں آغاز
متنازع ریویو پر اعتراض
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق پاکستانی ٹیم مینجمنٹ نے آن فیلڈ امپائر کمار دھرماسینا کی جانب سے بنگلا دیش کو ایل بی ڈبلیو ریویو لینے کی اجازت دینے پر اعتراض اٹھایا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ بنگلا دیش نے ریویو اس وقت لیا جب گیند کی ری پلے سٹیڈیم کی بڑی سکرین پر دکھائی جا چکی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 10 سالہ بھتیجی سے زیادتی اور قتل کا الزام، ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
اہم واقعہ کا پس منظر
مذکورہ واقعہ تیسرے ون ڈے کے آخری اوور کی دوسری آخری گیند پر پیش آیا، جب پاکستان کو جیت کے لیے دو گیندوں پر 12 رنز درکار تھے، بنگلا دیش کے لیگ اسپنر رشد حسین کی گیند لیگ سائیڈ پر نکل گئی جسے امپائر نے وائیڈ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: آج رات 12 بجے سے انٹرنیٹ سروس بند کرنے کا فیصلہ
بنگلا دیش کا ریویو
کچھ دیر مشاورت کے بعد بنگلا دیش نے ایل بی ڈبلیو کا ریویو لے لیا، حالانکہ بظاہر گیند بیٹر شاہین آفریدی کے جسم سے کافی دور تھی۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ قوانین کے مطابق ریویو کا فیصلہ اس وقت تک کرنا ہوتا ہے جب تک ری پلے کھلاڑیوں کو نظر نہ آئے، مگر اس موقع پر بڑی سکرین پر گیند کا ری پلے دکھایا جا چکا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: چائے پیش کرنے کا انداز پسند آنے پر اسکول پرنسپل نے اپنے چپراسی سے شادی کرلی
ڈی آر ایس کا اثر
ڈی آر ایس میں بال ٹریکنگ سے پہلے اس وقت اسپائک سامنے آیا جب گیند بلے کے نچلے حصے کے قریب سے گزری، جس کے بعد وائیڈ کا فیصلہ واپس لے لیا گیا۔ اس کے نتیجے میں پاکستان کو ایک گیند پر 12 رنز درکار رہ گئے۔
یہ بھی پڑھیں: ایف سی آئی ٹی نے پروگرامنگ مقابلوں میں شاندار کامیابیوں کے 17 سال مکمل کر لیے
میچ کا نتیجہ
آخری گیند پر شاہین آفریدی سٹمپ آؤٹ ہوگئے اور بنگلا دیش نے میچ 11 رنز سے جیت کر سیریز 1-2 سے اپنے نام کرلی۔
پاکستان کی مسلسل تحفظات
خیال رہے کہ یہ لگاتار دوسرا میچ ہے جس میں پاکستان نے فیصلوں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، اس سے قبل سلمان علی آغا نے رن آؤٹ پر شیدید غصے کا اظہار کیا تھا جس پر آئی سی سی کی جانب سے انہیں ایک ڈی میرٹ پوائنٹ اور میچ فیس کا 50 فیصد جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا。








